احکام عدت

شوہر سے الگ رہنے والی عورت پر شوہر کے وفات کی صورت میں عدت کا حکم

فتوی نمبر :
2085
معاملات / عدت نان و نفقہ / احکام عدت

شوہر سے الگ رہنے والی عورت پر شوہر کے وفات کی صورت میں عدت کا حکم

اگر کوئی عورت اپنے شوہر کو چھوڑ کر الگ رہنے لگے، نہ اس نے خلع لیا ہو اور نہ شوہر نے طلاق دی ہو، اس حالت میں دو یا تین سال گزر جائیں، پھر اسی دوران شوہر کا انتقال ہو جائے تو ایسی عورت پر شوہر کی وفات کی عدت لازم ہوگی یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر شوہر کا انتقال ہو جائے تو بیوی کے ذمہ چار ماہ دس دن عدتِ وفات گزارنا لازم ہے، چاہے اس کے ساتھ رہتی ہو یا اس سے الگ رہتی ہو۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں اگرچہ تین سال سے عورت بھائی کے گھر ہے، لیکن چونکہ شوہر نے طلاق نہیں دی تھی۔ شوہر کے انتقال کے وقت بھی یہ عورت شوہر کے نکاح میں تھی، لہذا اس پر بھی عدت (چار مہینے دس دن ) گزارنا لازم ہے ۔

حوالہ جات

*بدائع الصنائع:(192/3،ط:دار الكتب العلمية)*
وأما الذي يجب أصلا بنفسه فهو عدة الوفاة، وسبب وجوبها الوفاة قال الله تعالى ﴿والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشرا﴾ [البقرة: ٢٣٤]، وأنها تجب لإظهار الحزن بفوت نعمة النكاح إذ النكاح كان نعمة عظيمة في حقها فإن الزوج كان سبب صيانتها، وعفافها، وإيفائها بالنفقة، والكسوة، والمسكن فوجب عليها العدة إظهارا للحزن بفوت النعمة، وتعريفا لقدرها، وشرط وجوبها النكاح الصحيح.

*شرح مختصر الطحاوي للجصاص:(239/5،ط:دارالسراج)*
قال: (وعدة المتوفى عنها زوجها أربعة أشهر وعشرا، سواء دخل بها أو لم يدخل بها، إذا كانت حرة).لقول الله تعالى: ﴿والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشرا﴾، وهو عام في المدخول بها وغيرها، ولا خلاف فيه بين أهل العلم.

*المحيط البرهاني:(3/ 458،ط: دار الكتب العلمية)*
وعدة المتوفى عنها زوجها إذا كانت حائلاً وهي حرة أربعة أشهرٍ وعشراً، يستوي في ذلك الدخول وعدم الدخول والصغر والكبر.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
13
فتوی نمبر 2085کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --