نفل نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
748
عبادات / نماز /

نفل نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کا حکم

میں اس وقت جس مقام پر مقیم ہوں، وہاں رات کو تقریباً بارہ بجے، ساڑھے بارہ بجے یا ایک بجے باجماعت آٹھ رکعات قیام اللیل (نفل نماز) ادا کی جاتی ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ: کیا ایسی نفل نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا شرعاً جائز ہے؟ اور کیا میں ان کے پیچھے شریک ہو سکتا ہوں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ صلاۃ الکسوف، صلاۃ الاستسقاء اور تراویح کے علاوہ کوئی بھی نفل نماز جماعت سے ادا کرنا، جب کہ مقتدی چار یا چار سے زیادہ ہوں یہ فقہائے احناف کے نزدیک مکروہ تحریمی ہے۔

حوالہ جات

المحيط البرہاني:(438/1،ط: دارالکتب العلمیة)*
ولا يصلي تطوع بجماعة إلا قيام رمضان فقد استثني عن النهي قيام رمضان.

*البحر الرائق:(56/2،ط: دار الكتاب الاسلامي)*
ولا يصلى تطوع بجماعة غير التراويح وما روي من الصلوات في الأوقات الشريفة كليلة القدر وليلة النصف من شعبان وليلتي العيد وعرفة والجمعة وغيرها تصلى فرادى.

*الشامية:(48/2،ط: دارالفكر)*
(ولا يصلي الوتر و) لا (التطوع بجماعة خارج رمضان) أي يكره ذلك.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
104
فتوی نمبر 748کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --