السلام علیکم محترم!
آج کل تسبیح نماز بہت جگہ جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہے مساجد میں بھی کئی جگہ جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔
کیا تسبیح نماز کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا جائز ہے؟
براہ کرم راہنمائی فرمائیں۔
واضح رہے کہ صلاۃ الکسوف، صلاۃ الاستسقاء اور تراویح کے علاوہ کسی بھی نفل نماز کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا، جبکہ اس کے لیے باقاعدہ اہتمام اور تداعی ہو اور مقتدی چار یا اس سے زیادہ ہوں مکروہِ تحریمی ہے، لہٰذا صلاۃ التسبیح جماعت کے ساتھ پڑھنا مکروہ ہے، نفل کا صحیح اور بہتر طریقہ یہ ہے کہ انہیں انفرادی طور پر ادا کیا جائے۔
*المحيط البرہاني:(438/1،ط: دارالکتب العلمیة)*
ولا يصلي تطوع بجماعة إلا قيام رمضان فقد استثني عن النهي قيام رمضان.
*البحر الرائق:(56/2،ط: دار الكتاب الاسلامي)*
ولا يصلى تطوع بجماعة غير التراويح وما روي من الصلوات في الأوقات الشريفة كليلة القدر وليلة النصف من شعبان وليلتي العيد وعرفة والجمعة وغيرها تصلى فرادى.
*الشامية:(48/2،ط: دارالفكر)*
(ولا يصلي الوتر و) لا (التطوع بجماعة خارج رمضان) أي يكره ذلك.