کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک گھر میں دو کمرے متصل ہیں اس میں ایک کمرے میں الماری ہے جس میں قرآن کریم وغیرہ دیگر اسلامی کتابیں رکھی ہوتی ہے ، اب دوسرے کمرے میں اس طرح چارپائی بچھانا کہ سونے والے کے پیر دوسرے کمرے میں قرآن کریم والی الماری کی طرف ہو کیسا ہے ؟
پوچھی گئی صورت میں چونکہ دونوں کمروں کے درمیان دیوار حائل ہے اس لیے قرآن کریم والی الماری کی طرف دیوارکے پیچھے سے پیر پھیلانے میں کوئی حرج نہیں ، البتہ اگر درمیان میں کوئی حائل نہ ہو تو قرآن کریم کی طرف پیر پھیلانا مکروہ ہے ۔
الهندية: (5/ 322، ط: دارالفكر)
مد الرجلين إلى جانب المصحف إن لم يكن بحذائه لا يكره، وكذا لو كان المصحف معلقا في الوتد وهو قد مد الرجل إلى ذلك الجانب لا يكره، كذا في الغرائب.
المحيط البرهاني: (5/ 321، ط: دار الكتب العلمية )
ويكره مد الرجلين إلى القبلة في النوم وغيره عمداً، وكذلك يكره مد الرجلين إلى المصحف، وإلى كتب الفقه لما فيه من ترك تعظيم جهة القبلة، وكلام الله تعالى، ومعاني كلام الله تعالى.
حاشية الطحطاوي : (ص148، ط: دار الكتب العلمية )
وفي الخلاصة مد الرجلين إلى جانب المصحف إذا لم يكن بحذائه لا يكره وكذا لو كان المصحف معلقا بالوتد وهو مادا الرجلين إلى جانب المصحف لا يكره .