مکان کرایہ پر دیتے وقت ایڈوانس کرایہ اور سیکورٹی کا حکم

فتوی نمبر :
1503
معاملات / مالی معاوضات /

مکان کرایہ پر دیتے وقت ایڈوانس کرایہ اور سیکورٹی کا حکم

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ حضرت !
ایک مسئلہ عرض کرنا ہے کہ جو گھر کرائے وغیرہ پر لیا جاتا ہے تو اس کا شروع میں ایک کرایہ ایڈوانس اور ساتھ میں کچھ اور رقم ایڈوانس ہی کی صورت میں رکھی جاتی ہے تو کیا جب گھر چھوڑا جائے تو مالک مکان اس بات کا پابند ہے کہ وہ ایڈوانس کرایہ اور جو ساتھ میں بطور سیفٹی کے جو رقم رکھوائی ہے وہ دونوں واپس کرے گا یا صرف سیفٹی کیلئے جو رقم رکھوائی تھی وہ ہی دے گا اور ایڈوانس کرایہ خود رکھے گا ؟ رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللّٰہ خیر

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مکان کرایہ پر دیتے وقت جو رقم بطور سیکورٹی جمع کروائی جاتی ہے، اس کی حیثیت قرض کی ہے اور اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ کرایہ دار کی طرف سے، اگر مکان میں کچھ نقصان یا توڑ پھوڑ ہو جائے تو اس کی وصولی کی جا سکے، بصورت دیگر وہ رقم کرایہ دار کو بعینہ واپس کرنا لازم ہے اور ایڈوانس کرایہ آئندہ ماہ مکان استعمال کرنے کی اجرت ہوتی ہے۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر مکان میں کوئی نقصان نہ ہوا ہو تو بطور سیکورٹی جمع کروائی گئی پوری رقم واپس کرنا لازم ہے، البتہ ایڈوانس کرایہ کا حکم یہ ہے کہ کرایہ دار نے اگر ایک ماہ یا کچھ عرصہ مکان استعمال کیا تو اس کے بقدر ایڈوانس کرایہ سے رقم وصول کر لی جائے اور باقی رقم واپس کر دی جائے ۔

حوالہ جات

*درر الحكام في شرح مجلة الأحكام:(5/410 ،ط:*
إعارة المثليات قرض : وتستعمل إعارة الدراهم والدنانير والجوز والبيض وسائر المثليات واستعارتها عند الإطلاق بمعنى القرض .ووجه الارتباط بين القرض والعارية هو أن كلا من العقدين عقد تبرع فلكل من العاقدين فيهما حق الرجوع عنه"

*الشامیة:(157/5،ط: دارالفکر)*
"(ولزم تأجيل كل دين) إن قبل المديون (إلا) في سبع… والسابع (القرض) فلا يلزم تأجيله… (قوله: فلا يلزم تأجيله) أي أنه يصح تأجيله مع كونه غير لازم فللمقرض الرجوع عنه، لكن قال في الهداية: فإن تأجيله لا يصح؛ لأنه إعارة وصلة في الابتداء حتى يصح بلفظة الإعارة ولا يملكه من لا يملك التبرع كالوصي والصبي، ومعاوضة في الانتهاء فعلى اعتبار الابتداء لا يلزم التأجيل فيه كما في الإعارة إذ لا جبر في التبرع، وعلى اعتبار الانتهاء لا يصح؛ لأنه يصير بيع الدراهم بالدراهم نسيئة وهو ربا اهـ.
ومقتضاه أن قوله لا يصح على حقيقته؛ لأنه إذا وجد فيه مقتضى عدم اللزوم ومقتضى عدم الصحة، وكان الأول لا ينافي الثاني؛ لأن ما لا يصح لا يلزم وجب اعتبار عدم الصحة، ولهذا علل في الفتح لعدم الصحة أيضا بقوله: ولأنه لو لزم كان التبرع ملزما على المتبرع، ثم للمثل المردود حكم العين كأنه رد العين وإلا كان تمليك دراهم بدراهم بلا قبض في المجلس والتأجيل في الأعيان لا يصح اهـ ملخصا، ويؤيده ما في النهر عن القنية التأجيل في القرض باطل.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
31
فتوی نمبر 1503کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --