زکوۃ کن لوگوں کو دی جاسکتی ہے

فتوی نمبر :
34
/ /

زکوۃ کن لوگوں کو دی جاسکتی ہے

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب کیسے ہو آپ ؟
مفتی صاحب زکوٰۃ کس کس کو دے سکتے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ



واضح رہے کہ وہ مسلمان جس کے پاس اپنی بنیادی ضروریات، جیسے رہائش، لباس، اور استعمال کے برتن وغیرہ کے علاوہ نصاب کے برابر یا اس سے زائد مال موجود نہ ہو اور وہ سید یا قریشی بھی نہ ہو تو وہ زکوٰۃ کا مستحق سمجھا جائے گا اور اسے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے، لیکن اگر کسی شخص کے پاس صرف سونا ہو اور اس کی مقدار ساڑھے سات تولہ (یعنی 87.479 گرام) تک پہنچ جائے یا صرف چاندی ہو اور وہ ساڑھے باون تولہ (یعنی 612.36 گرام) تک ہو یا ان میں سے کسی ایک کے برابر نقد رقم یا تجارتی مال موجود ہو یا مختلف قسم کے اموال کو ملا کر چاندی کے نصاب کے برابر مالیت حاصل ہو جائے یا اس کے پاس ضرورت سے زائد ایسا سامان ہو، جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو تو وہ شخص صاحبِ نصاب شمار ہوگا اور اسے زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہوگا۔

حوالہ جات



القراٰن:(60/9)
اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِؕ-فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ.

*بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع:(47/2،ط:دارالکتب العلمیۃ بیروت)*
وكما لا يجوز صرف الزكاة إلى الغني لا يجوز صرف جميع الصدقات المفروضة والواجبة إليه كالعشور والكفارات والنذور وصدقة الفطر لعموم قوله تعالى ﴿إنما الصدقات للفقراء﴾ [التوبة: ٦٠] وقول النبي ﷺ «لا تحل الصدقة لغني» ولأن الصدقة مال تمكن فيه الخبث لكونه غسالة الناس لحصول الطهارة لهم به من الذنوب، ولا يجوز الانتفاع بالخبيث إلا عند الحاجة والحاجة للفقير لا للغني.

*الھندیة:(189/1،ط:دارالفکر)*
لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهدي والشرط أن يكون فاضلا عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا كذا في الزاهدي.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاءجامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)،اورنگی ٹاؤن کراچی

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
114
فتوی نمبر 34کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --
  • 155