نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام شمائل، سر سے لے کر پاؤں تک، بیان فرما دیجیے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ پست قد، بلکہ درمیانہ اور متناسب قد والے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال نہ بالکل سیدھے تھے اور نہ زیادہ گھنگریال، بلکہ ان میں ہلکہ سا گھنگریالہ پن تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم نہ موٹا تھا نہ دبلا، چہرہ نہ بالکل گول تھا نہ لمبا، بلکہ درمیانہ اور قدرے گولائی لیے ہوئے تھا، رنگ مبارک سفید اور سرخی مائل تھا، آنکھیں نہایت سیاہ اور کشادہ تھیں، پلکیں لمبی اور خوبصورت تھیں۔
بدنِ اطہر کے جوڑ مضبوط اور ہڈیاں متناسب تھیں، دونوں شانوں کے درمیان مہرِ نبوت نمایاں تھی، جسمِ مبارک پر معمولی سے زیادہ بال نہ تھے، صرف سینے سے ناف تک باریک بالوں کی ایک لکیر تھی، ہاتھ اور قدم گوشت سے پر اور مضبوط تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور داڑھی کے بال سیاہ تھے، سوائے چند بالوں کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کبھی نصف کان، کبھی کانوں کی لو تک، کبھی کندھوں تک ہوتے تھے ۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے تو وقار اور قوت کے ساتھ قدم اٹھاتے، گویا پہاڑ سے نیچے کی طرف اتر رہے ہوں، جب کسی کی طرف متوجہ ہوتے تو پورے بدن کے ساتھ متوجہ ہوتے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی دل والے، سب سے زیادہ سچے اور نرم گفتار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء کے خاتم ہیں، جن کے بعد کوئی نبی نہیں۔
*مختصر الشمائل:(16/1،ط:المكتبة الإسلامية)*
إبراهيم بن محمد من ولد علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: كان علي إذا وصف رسول الله ﷺ قال: (لم يكن رسول الله ﷺ بالطويل الممغط ولا بالقصير المتردد وكان ربعة من القوم لم يكن بالجعد القطط ولا بالسبط كان جعدا رجلا ولم يكن بالمطهم ولا بالمكلثم وكان في وجهه تدوير أبيض مشرب أدعج العينين أهدب الأشفار جليل المشاش والكتد أجرد ذو مسربة شثن الكفين والقدمين إذا مشى تقلع كأنما ينحط من صبب وإذا التفت التفت معا بين كتفيه خاتم النبوة وهو خاتم النبيين أجود الناس صدرا وأصدق الناس لهجة وألينهم عريكة وأكرمهم عشرة من رآه بديهة هابه ومن خالطه معرفة أحبه يقول ناعته: لم أر قبله ولا بعده مثله ﷺ )
*سنن الترمذي:(25/6،ط: رقم الحديث:3635،ط:دار الغرب الإسلامي)*
حدثنا محمود بن غيلان قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن البراء، قال: «ما رأيت من ذي لمة في حلة حمراء أحسن من رسول الله ﷺ، له شعر يضرب منكبيه، بعيد ما بين المنكبين، لم يكن بالقصير ولا بالطويل»