السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اور علمائے عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ کسی بھی ایپلیکیشن کو ریفر کرنے سے یعنی دوسرے شخص کو فارورڈ کرنے سے، اگر وہ آدمی بھیجی ہوئی لنک کے ذریعے ایپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کرے اور کمپنی کی پالیسی کے حساب سے اس کا ٹارگٹ پورا کرے تو ریفر کرنے والے کو کمپنی کی طرف سے بونس ملتا ہے تو اس بونس کا حاصل کرنا اور اس طرح ریفر کرنا کیسا ہے؟
واضح رہے کہ اگر کوئی ایسی ایپلیکیشن ہو جس میں ناجائز امور اور مفاسد پر مشتمل کوئی چیز نہ ہو تو کسی شخص کو مذکورہ ایپلیکیشن ریفر کرنے کے بعد، اگر وہ شخص اس ایپلیکیشن کا مقررہ ٹارگٹ جو کمپنی کی طرف سے ملا ہے پورا کرلے اور کمپنی کی جانب سے ریفر کرنے والے شخص کو اس کے عوض بونس دیا جائے تو مذکور بونس حاصل کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، کیونکہ بظاہر اس بونس کا مقصد لوگوں کو ایپلیکیشن استعمال کرنے کی ترغیب دینا ہے، البتہ یہ بات ملحوظ رہے کہ جس شخص کو پہلے شخص نے ایپلیکیشن ریفر کی تھی، اگر وہ آگے کسی تیسرے شخص کو ریفر کرے اور وہ تیسرا شخص مقررہ ٹارگٹ پورا کرلے تو اس تیسرے شخص کے ٹارگٹ پورا کرنے پر پہلے شخص کے لیے کمپنی کی طرف سے بونس حاصل کرنا درست نہیں، کیونکہ اس صورت میں پہلے شخص کی جانب سے کوئی براہِ راست محنت یا عمل نہیں پایا گیا جس کے عوض اسے بونس دیا جائے۔
شعب الإيمان: (2/ 84 ،ط:دار الكتب العلمية) 1225 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان، أنا عبد الله بن جعفر بن درستويه، ثنا يعقوب بن سفيان، ثنا أبو نعيم وقبيصة، قالا: ثنا سفيان، عن وائل بن داود، عن سعيد بن عمير الأنصاري قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم أيّ الكسب أطيب؟ قال: «عمل الرجل بيده، وكلّ بيع مبرور». الشامية:(63/6،ط:دارالفکر) "قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام."