السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ ! حضرت اسقاط کے متعلق رہنمائی فرمائیں۔مہربانی ہوگی۔
آج کل مروجہ ”حیلہ اسقاط“ شرعی لحاظ سے درست نہیں، کیونکہ اسے عام رواج بنا دیا گیا ہے، جبکہ فقہائے کرام نے اس کی اجازت صرف مجبوری کی حالت میں دی تھی، مزید یہ کہ اس عمل میں شرعی اصولوں کی پابندی بھی نہیں رکھی جاتی، اس طریقے میں کئی قباحتیں پائی جاتی ہیں: 1) جو رقم گھمائی جاتی ہے وہ اکثر میت کا ترکہ ہوتی ہے اور تمام ورثا کی اجازت کے بغیر اس میں تصرف جائز نہیں، خاص طور پر جب نابالغ ورثا بھی ہوں۔ 2) مال کا اگلے شخص کی ملکیت میں صحیح طرح داخل نہ ہونا، کیونکہ اس میں زبردستی اور رسمی لین دین شامل ہوتا ہے۔ 3) فدیہ صحیح مصرف تک نہیں پہنچتا، کیونکہ کئی مال دار لوگ بھی اس عمل میں شامل کر لیے جاتے ہیں۔ 4) آخری مستحق کی ملکیت میں رقم آنے کے بعد اس کی مرضی کے بغیر رقم واپس لی جاتی ہے، جو کہ ناجائز ہے۔ 5) عوام اسے فرض و واجب سمجھتی ہے، حالاں کہ یہ حیلہ زیادہ سے زیادہ مباح ہوسکتا ہے اور ایک مباح، بلکہ مندوب فعل کو بھی ضروری سمجھنے سے اس کا ترک واجب ہو جاتا ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں ایک خرابی تو یہ ہے کہ چونکہ میت کے حیلہ اسقاط کے لیے لوگوں سے پیسے جمع کیے جاتے ہیں اس میں معلوم نہیں کہ کس کی رضامندی شامل ہے اور کس کی نہیں اور کسی مسلمان کا مال اس کی رضامندی کے بغیر حلال نہیں اور دوسری خرابی اس کا رواج ہونا ہے، حالانکہ فقہائے کرام نے صرف مجبوری میں اجازت دی تھی، تیسری خرابی اس میں یہ ہے کہ چیز دے کر واپس بھی لی جاتی ہے، اس لیے یہ ناجائز ہے، اس سے اجتناب لازم ہے۔
صحيح مسلم:(132/5،رقم الحديث: 17(1718)،ط: دار طوق النجاة) حدثنا أبو جعفر محمد بن الصباح، وعبد الله بن عون الهلالي جميعا عن إبراهيم بن سعد قال ابن الصباح: حدثنا إبراهيم بن سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف ، حدثنا أبي ، عن القاسم بن محمد ، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ: «من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد ». مرقاةالمفاتيح:(755/2،ط:دار الفكر) وفيه أن من أصر على أمر مندوب، وجعله عزما، ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال فكيف من أصر على بدعة أو منكر؟ الشامية:(73/2،ط: دارالفكر) وبه ظهر حال وصايا أهل زماننا، فإن الواحد منهم يكون في ذمته صلوات كثيرة وغيرها من زكاة وأضاح وأيمان ويوصي لذلك بدراهم يسيرة، ويجعل معظم وصيته لقراءة الختمات والتهاليل التي نص علماؤنا على عدم صحة الوصية بها، وأن القراءة لشيء من الدنيا لا تجوز، وأن الآخذ والمعطي آثمان لأن ذلك يشبه الاستئجار على القراءة، ونفس الاستئجار عليها لا يجوز، فكذا ما أشبهه كما صرح بذلك في عدة كتب من مشاهير كتب المذهب. وأيضاً:(73/2،ط: دارالفكر) ولو لم يترك مالا يستقرض وارثه نصف صاع مثلا ويدفعه لفقير ثم يدفعه الفقير للوارث ثم وثم حتى يتم.