بدعات جنائز

قبر کو پکا کرنے،لائٹ اور سولرسسٹم لگانے اور ٹیپ ریکارڈ کے ذریعے تلاوت لگانے کا حکم

فتوی نمبر :
2391
عبادات / جنائز / بدعات جنائز

قبر کو پکا کرنے،لائٹ اور سولرسسٹم لگانے اور ٹیپ ریکارڈ کے ذریعے تلاوت لگانے کا حکم

السلام عليكم !
ایک محترم بھائی نے ایک مسئلہ پوچھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قبروں کو ایک یا ڈیڑھ بالشت پکا بنایا گیا ہے، ان کے اردگرد جنگلہ لگایا گیا ہے، اوپر نام کی تختی لگائی گئی ہے، لائٹ اور سولر سسٹم لگایا گیا ہے اور ایک سپیکر کے ذریعے چوبیس گھنٹے قرآن کی تلاوت چلائی جا رہی ہے اور اسے ایصال ثواب سمجھا جا رہا ہے تو کیا یہ عمل اسلام میں جائز ہے؟
برائے کرم قرآن و احادیث کی روشنی میں اصلاح کی جائے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

قبر کو پکا کرنا شرعا ناپسندیدہ اور ممنوع ہے، احادیثِ مبارکہ میں اس سے منع کیا گیا ہے، تاہم اگر قبر کو محفوظ بنانے کی ضرورت ہو، مثلاً جانوروں سے بچاؤ کے لیے تو اس کے اردگرد باڑ یا رکاوٹ لگانا جائز ہے، جیسے کانٹے رکھ دینا یا اطراف میں اینٹیں لگا دینا، بشرطیکہ میت کا جسم چاروں طرف سے مٹی ہی میں رہے۔
اسی طرح قبر کے سرہانے شناخت کے لیے سادہ پتھر یا ماربل کا کتبہ لگانا جس پر صرف نام لکھا ہو جائز ہے، البتہ اس پر کلمہ طیبہ یا قرآنی آیات لکھنا درست نہیں، کیونکہ اس سے بے ادبی کا اندیشہ ہوتا ہے۔

قبرستان جا کر قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا یا اپنے کسی عزیز کی قبر کے پاس قرآن پڑھنا شرعاً جائز ہے اور اس کا ثواب مرحوم کو پہنچتا ہے، تاہم یہ لازم نہیں کہ تلاوت قبر کے پاس ہی کی جائے، بلکہ کہیں بھی پڑھ کر اس کا ثواب بخشا جا سکتا ہے، محض قبر پر ٹیپ ریکارڈنگ لگا کر تلاوت کا ایصال ثواب کرنا درست نہیں ہے۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر قبر کو مکمل طور پر پکا کرنے کے بجائے صرف کناروں کو پانی وغیرہ سے حفاظت کے لیے مضبوط کیا گیا ہو تو اس کی گنجائش ہے، اسی طرح لائٹ لگانے اور باڑ لگانے میں کوئی حرج نہیں، البتہ قبر پر ٹیپ ریکارڈر یا اسپیکر کے ذریعے قرآنِ کریم کی تلاوت چلانا ایصالِ ثواب کے لیے درست نہیں، اس سے ایصال ثواب نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

*سنن الترمذي:(356/2،رقم الحدیث:1052،ط:دار الغرب الإسلامي)*
حدثنا عبد الرحمن بن الأسود أبو عمرو البصري ، قال: حدثنا محمد بن ربيعة ، عن ابن جريج ، عن أبي الزبير ، عن جابر قال: «نهى النبي ﷺ أن تجصص القبور» وأن يكتب عليها، وأن يبنى عليها، وأن توطأ.

*عمدة القاري:(118/3،ط:دار الفكر)*
قال الخطابي: فيه دليل على استحباب تلاوة الكتاب العزيز على القبور، لأنه إذا كان يرجى عن الميت التخفيف بتسبيح الشجر، فتلاوة القرآن العظيم أعظم رجاء وبركة. قلت: اختلف الناس في هذا المسألة، فذهب أبو حنيفة وأحمد، رضي الله تعالى عنهما، إلى وصول ثواب قراءة القرآن إلى الميت، لما روى أبو بكر النجار في كتاب (السنن) عن علي بن أبي طالب، رضي الله تعالى عنه، أن النبي ﷺ قال: (من مر بين المقابر فقرأ: قل هو الله أحد، أحد عشر مرة، ثم وهب أجرها للأموات أعطي من الأجر بعدد الأموات) . وفي (سننه) أيضا عن أنس يرفعه: (من دخل المقابر فقرأ سورة: يس، خفف الله عنهم يومئذ) .

*بدائع الصنائع:(186/1،ط:دار الكتب العلمية)*
فينظر إلى أهلية التالي وأهليته بالتمييز وقد وجد فوجد سماع تلاوة صحيحة فتجب السجدة بخلاف السماع من الببغاء والصدى فإن ذلك ليس بتلاوة وكذا إذا سمع من المجنون؛ لأن ذلك ليس بتلاوة صحيحة لعدم أهليته لانعدام التمييز.

*حاشية الطحطاوي:(610/1،ط:دار الكتب العلمية )*
قال في الخانية يكره الآجر إذا كان مما يلي الميت أما فيما وراء ذلك فلا بأس وفي الحسامي وقد نص إسمعيل الزاهد بالآجر خلف اللبن على اللحد.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
7
فتوی نمبر 2391کی تصدیق کریں