السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا قبروں پر موم بتی جلانا ناجائز ہے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر چراغ جلانے سے منع فرمایا اور ایسا کرنے والوں کے لیے سخت وعید بیان فرمائی ہے، لہٰذا قبروں پر موم بتی جلانا جائز نہیں، بلکہ بدعت ہے، جس سے اجتناب لازم ہے ۔
*سنن الترمذي:(352/1،رقم الحديث:320،ط:دار الغرب الإسلامي)* حدثنا قتيبة، قال: حدثنا عبد الوارث بن سعيد ، عن محمد بن جحادة، عن أبي صالح ، عن ابن عباس، قال: «لعن رسول الله ﷺ زائرات القبور» والمتخذين عليها المساجد والسرج. *الهندية:(351/5،ط: دارالفكر)* وإخراج الشموع إلى رأس القبور في الليالي الأول بدعة كذا في السراجية. *فتاوی محمودیہ:(149/9ط:دارالافتاء جامعہ فارقیہ کراچی)* سوال:قبرستان میں اگربتی لوہان جلانا کیسا ہے؟قبروں پر دونوں ہاتھ اٹھا کر فاتحہ پڑھنا کیسا ہے؟ الجواب:قبرستان میں اگر بتی اور لوبان جانا نہیں چاہیے،میت کو غسل دیتے وقت اس تختے کو دھونی دینا درست ہے جس پر غسل دیا جائے،نیز کفن کو دھونی دے کر میت کو پہنایا جائے ،باقی قبر پر ثابت نہیں ہے،بدعت اور منع ہے،بہتر یہ ہےڈ کہ بغیر ہاتھ اٹھائے فاتحہ پڑھی جائے،اگر ہاتھ اٹھانا ہوتو قبر کی طرف پشت کرے،قبلہ کی طرف رخ کرے،ایسا کرنا حدیث شریف سے ثابت ہے۔فقط واللہ اعلم.