کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ایک ساتھی ہیں اچھے نیک آدمی ہیں ، تبلیغی جماعت سے تعلق ہے ،البتہ ہم نے اکثران کو دیکھا ہے کہ وہ اپنے والد کی قبر کو بوسہ دیتے رہتے ہیں ، پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح کسی کی قبر کو بوسہ دینا جائز ہے ؟
واضح رہے کہ قبر(چاہے والدین میں سے کسی کی ہو ،یا کسی بزرگ ،استاد وغیرہ کی ، )کو بوسہ دینا جائز نہیں ۔
الهندية: (5/ 351، ط: دارالفكر) ولا يمسح القبر ولا يقبله فإن ذلك من عادة النصارى ولا بأس بتقبيل قبر والديه كذا في الغرائب. حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح : (ص621، ط: دار الكتب العلمية) ولا يمسح القبر ولا يقبله ولا يمسه فإن ذلك من عادة النصارى كذا في شرح الشرعة . الفتح الرباني لترتيب مسند الإمام أحمد بن حنبل الشيباني: (8/ 178، ط: دار إحياء التراث العربي ) ولا يمسح القبر ولا يقبله ولا يمسه =، فإن ذلك عادة النصارى، قال وما ذكروه صحيح لأنه قد صح النهي عن تعظيم القبور.