عبادات / جنائز / بدعات جنائز

میت کے لیے پانی گرم کرنے اور پیٹ پر چھری رکھنے کا حکم

فتوی نمبر : 373 0000-00-00 147 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

السلام علیکم عرض یہ ہے کہ عوام میں یہ مشہور ہیں کہ میت کے لیے پانی آگ پر گرم کیا جائے گا راڈ پر نہیں یہ صحیح ہے کہ نہیں ؟اور میت کے پیٹ پر پھولنے کی صورت میں چھری رکھتے ہیں یہ صحیح ہے کہ نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ میت کو غسل دیتے وقت پانی گرم کرنا مستحب ہے، پانی چاہے آگ پر گرم کیا جائے یا ہیٹر، راڈ یا کسی بھی جدید ذریعے سے، جائز ہے، کیونکہ شریعت نے صرف پانی کے پاک ہونے کی شرط رکھی ہے، پانی گرم ہونا ضروری نہیں،لہٰذا یہ کہنا کہ پانی صرف آگ پر ہی گرم کیا جائے اور راڈ یا ہیٹر پر گرم نہ کیا جائے، محض ایک غلط فہمی ہے، شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں۔ اسی طرح بعض لوگ میت کے پیٹ پر چھری یا لوہے کی کوئی چیز رکھتے ہیں تاکہ پیٹ نہ پھولے، یہ عمل بھی شریعت میں ثابت نہیں، لہٰذا ایسی باتوں سے احتراز کرنا چاہیے۔

الشامية:(196/2،ط: دارالفكر) (ويصب عليه ماء مغلى بسدر) ورق النبق (أو حرض) بضم فسكون الأشنان (إن تيسر، وإلا فماء خالص) مغلى (ويغسل رأسه ولحيته بالخطمي) نبت بالعراق (إن وجد وإلا فبالصابون ونحوه) هذا لو كان بهما شعر حتى لو كان أمرد أو أجرد لا يفعل. البحر الرائق:(185/2،ط: دارالكتب العلمية) قوله وصب عليه ماء مغلي بسدر أو حرض) مبالغة في التنظيف؛ لأن تسخين الماء كذلك مما يزيد في تحقيق المطلوب فكان مطلوبا شرعا وما يظن مانعا، وهو كون سخونته توجب انحلاله في الباطن فيكثر.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)