کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ بندہ نے 10 پلاٹ قسطوں پر خریدے ہیں جن کے قسطیں ابھی تک جاری ہیں دو پلاٹوں پر مسجد بنانے کی نیت کی تھی لیکن اب تک کسی کو حوالہ نہیں کیا گیا البتہ جس جگہ مسجد بنانے کی نیت کی تھی اس کے سامنے دوسری مسجد تعمیر ہو رہی ہے جس کی وجہ سے اس جگہ مسجد بنانے کی ضرورت نہیں رہی ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ جن پلاٹوں پر مسجد بنانے کی نیت کی تھی ان پلاٹوں کی قیمت کا دوسری مسجد میں لگانا ،یا اس رقم سے کوئی اور جگہ مدرسے کے لیے خریدنا جائز ہے یا نہیں ؟
واضح رہے کہ وقف تام ہونے کے لیے قبضہ شرط ہے اور مسجد پر قبضہ اس وقت تام ہوگا جب واقف کی اجازت سے ایک شخص بھی نماز پڑھ لے ۔ پوچھی گئی صورت میں چونکہ صرف وقف کا ارادہ کیا ہےباقاعدہ وقف نہیں کیا ،تو وه زمین مسجد كے لیے وقف نہيں ہوئی،لہذا اس شخص کے لیے کسی دوسری جگہ پر مسجد یا مدرسے کی تعمیر میں وہ رقم دینا جائز ہے۔
الدرالمختار : (4/ 356، ط: دارالفكر) و (بقوله جعلته مسجدا) عند الثاني (وشرط محمد) والإمام (الصلاة فيه) بجماعة وقيل: يكفي واحد وجعله في الخانية ظاهر الرواية. فتح القدير للكمال بن الهمام: (6/ 233، ط: دارالفكر) ولهذا يشترط كونها بأذان وإقامة عندهما.ولو جعل له واحدا مؤذنا وإماما فأذن وأقام وصلى وحده صار مسجدا بالاتفاق؛ لأن أداء الصلاة على هذا الوجه كالجماعة. الهداية في شرح بداية المبتدي: (3/ 20، ط: دار احياء التراث العربي ) "وإذا بنى مسجدا لم يزل ملكه عنه حتى يفرزه عن ملكه بطريقه ويأذن للناس بالصلاة فيه، فإذا صلى فيه واحد زال عند أبي حنيفة عن ملكه" أما الإفراز فلأنه لا يخلص لله تعالى إلا به، وأما الصلاة فيه فلأنه لا بد من التسليم عند أبي حنيفة ومحمد، ويشترط تسليم نوعه، وذلك في المسجد بالصلاة فيه، أو لأنه لما تعذر القبض فقام تحقق المقصود مقامه ثم يكتفى بصلاة الواحد فيه في رواية عن أبي حنيفة، وكذا عن محمد؛ لأن فعل الجنس متعذر فيشترط أدناه. وعن محمد أنه يشترط الصلاة بالجماعة؛ لأن المسجد بني لذلك في الغالب "وقال أبو يوسف: يزول ملكه بقوله جعلته مسجدا".