بعض سرکاری زمینوں میں پھل والے درخت ہوتے ہیں، جیسے آم ہو یا کوئی اور پھلدار درخت، کیا ان کا پھل توڑ کر کھایا جا سکتا ہے؟
سرکاری زمین پر موجود پھلدار درختوں کے پھل استعمال کرنا اس وقت جائز ہے جب انتظامیہ کی طرف سے صراحتاً یا دلالتاً اجازت حاصل ہو، مثلاً حکومت کی طرف سے باقاعدہ اجازت ہو کہ لوگ ان درختوں کے پھل توڑ سکتے ہیں، یا عرفاً لوگوں کو پھل کھانے کی اجازت ہو اور اس پر کوئی مواخذہ نہ کیا جاتا ہو، لیکن اگر حکومت کی طرف سے اجازت نہ ہو اور پھل توڑنے سے منع کیا گیا ہو تو ان پھلوں کو توڑ کر کھانا جائز نہیں ہوگا۔
بدائع الصنائع:(234/2،ط:دار الكتب العلمية) ولا يجوز التصرف في ملك الغير بغير إذنه، المحيط البرهاني:(352/5،ط:دار الكتب العلمية) ذكر في «عيون المسائل»: إذا مر الرجل بالثمار في أيام الصيف، وأراد أن يتناول منها، والثمار ساقطة تحت الأشجار، فإن كان ذلك في المصر لا يسعه التناول إلا إذا علم أن صاحبها قد أباح إما نصًا أو دلالة بالعادة، وإن كان في الحائط، فإن كان من الثمار التي تبقى مثل الجوز وغيره لا يسعه إلا إذا علم الإذن، وإن كان من الثمار التي لا تبقى تكلموا. قال الصدر الشهيد: والمختار أنه لا بأس بالأكل ما لم يتعين النهي إما صريحًا أو عادة، فإن كان ذلك في الرساتيق الذي يقال بالفارسية بير استه فإن كان من الثمار التي تبقى لا يسعه الأخذ إلا إذا علم الإذن، وإن كان من الثمار التي لا تبقى، فالمختار أنه لا بأس بالتناول ما لم يبين النهي.