کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک آدمی نے مدرسے کے لیے زمین وقف کی ہے اور اس جگہ پر مدرسے کی عمارت بھی تعمیر ہو چکی ہے ،اب وہ چاہتا ہے ،کہ اس زمین پر اپنے لیے گھر بنائے اور اس کے بدلے میں کسی اور زمین کو مدرسے کے لیے وقف کرے ،کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ حالانکہ دوسری زمین مدرسے کے زمین سے بہتر نہیں۔
پوچھی گئی صورت میں مدرسے کے لیے وقف کی گئی زمین کو تبدیل کرنا جائز نہیں۔
الشامية : (4/ 384، ط: دارالفكر) اعلم أن الاستبدال على ثلاثة وجوه: الأول: أن يشرطه الواقف لنفسه أو لغيره أو لنفسه وغيره، فالاستبدال فيه جائز على الصحيح وقيل اتفاقا. والثاني: أن لا يشرطه سواء شرط عدمه أو سكت لكن صار بحيث لا ينتفع به بالكلية بأن لا يحصل منه شيء أصلا، أو لا يفي بمؤنته فهو أيضا جائز على الأصح إذا كان بإذن القاضي ورأيه المصلحة فيه. والثالث: أن لا يشرطه أيضا ولكن فيه نفع في الجملة وبدله خير منه ريعا ونفعا، وهذا لا يجوز استبداله على الأصح المختار.