وقف

مسجد کے لیے وقف کئے گئے قرآن کریم ودیگرکتابوں کومسجد سے باہر لے جاکر پڑھنا

فتوی نمبر :
634
معاملات / امانات / وقف

مسجد کے لیے وقف کئے گئے قرآن کریم ودیگرکتابوں کومسجد سے باہر لے جاکر پڑھنا

کیا فرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسجد میں بطور وقف رکھے گئے قرآن کریم اور دیگر کتابوں کو مسجد کے ہال سے نکال کر صحن میں پڑھنا جائز ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسجد کے ہال کا جو حکم ہے وہی حکم صحن کا ہی ہے لہذا اگرکوئی شخص گرمی سے بچنے کے لیے یا کسی اور وجہ سے مسجد کے ہال کے بجائے باہر صحن میں بیٹھ کر وقف شدہ قرآن کریم کے نسخے کو یا کسی اور کتاب کو پڑھتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔

حوالہ جات

الشامية :(4/ 366، ط:دارالفكر)
لو وقف ‌المصحف ‌على ‌المسجد أي بلا تعيين أهله قيل يقرأ فيه أي يختص بأهله المترددين إليه .

الهندية :٣/٣٣٠ رشيديه كوئته )
ولكن علمت ان المفتي به قول ابي يوسف انه لايجوز نقله و نقل ماله الي مسجد أخر.

الدرالمختار : (4/ 365، ط:دارالفكر)
وفي الدرر وقف مصحفا على أهل مسجد للقراءة إن يحصون جاز وإن وقف ‌على ‌المسجد ‌جاز ويقرأ فيه، ولا يكون محصورا على هذا المسجد .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
65
فتوی نمبر 634کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --