وقف

بیت المال سے چوری کی گئی چیز خریدنا

فتوی نمبر :
2366
معاملات / امانات / وقف

بیت المال سے چوری کی گئی چیز خریدنا

اگر کوئی شخص بیت المال سے کوئی چیز چوری کرے اور اس چیز کو بیچ دے تو کیا میں وہ چیز ان سے خرید سکتا ہوں یا نہیں؟
دو آدمیوں کی لڑائی ہے، اگر جلدی جواب دے دیں تو مفتیان کرام کی مہربانی ہو گی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ بیت المال مسلمانوں کی اجتماعی ملکیت ہوتا ہے، کسی شخص کا اس سے کوئی چیز چوری کرنا ناجائز ہے، اس لیے اگر کوئی شخص بیت المال سے کوئی چیز چوری کرے تو وہ چیز شرعاً چوری شدہ مال شمار ہوگی، اگر کسی کو معلوم ہو کہ یہ چیز بیت المال سے چرائی گئی ہے تو ایسی چیز خریدنا جائز نہیں۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ آپ کو معلوم ہے کہ چیز بیت المال کی ہے، اس لیے آپ کے لیے اس چیز کو خریدنا جائز نہیں، ورنہ آپ بھی گنہگار ہوں گے ۔

حوالہ جات

*السنن الكبرى للبيهقي:(166/6،رقم الحديث :11545،ط:دار الكتب العلمية)*
أخبرنا أبو بكر بن الحارث الفقيه، أنبأ أبو محمد بن حيان، ثنا حسن بن هارون بن سليمان، ثنا عبد الأعلى بن حماد، ثنا حماد بن سلمة، عن علي بن زيد، عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، أن رسول الله ﷺ قال: «لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه».

*وأيضاً:(547/5،رقم حديث10826،ط: دار الكتب العلمية)*
وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ، ثنا محمد بن صالح بن هانئ، وإبراهيم بن محمد بن حاتم الزاهد، قالا: ثنا الحسن بن عبد الصمد بن عبد الله بن رزين السلمي، ثنا ⦗٥٤٨⦘ يحيى بن يحيى، أنا مسلم بن خالد الزنجي، عن مصعب بن محمد المدني، عن شرحبيل مولى الأنصار، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ أنه قال: «من اشترى سرقة وهو يعلم أنها سرقة فقد أشرك في عارها وإثمها».

*الهداية:(515/6،ط:دار الفكر)*
والتصرف في مال الغير حرام فيجب التحرز عنه.

*الهندية:(364/5،ط: دارالفكر)*
فكل عين قائمة يغلب على ظنه أنهم أخذوها من الغير بالظلم وباعوها في السوق فإنه لا ينبغي أن يشتري ذلك وإن تداولتها الأيدي.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
17
فتوی نمبر 2366کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --