کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسجد کی تعمیر کے لیے ریتی آئی تھی، جس سے مسجد کا کچھ حصہ تعمیر ہو گیا ،لیکن اب تعمیر کا سلسلہ رک گیا ہے اور ریتی بچ گئی ہے ، جس کے ضائع ہونے کا خدشہ ہے، کیا اس ریتی کو بیچ کر مسجد کی زمین کی قیمت ادا کر سکتے ہیں؟
مسجد کے لیے خریدی گئی چیزوں کو اسی مسجد میں استعمال کرنا ضروری ہے، البتہ اگر کسی چیز کی اب مسجد میں ضرورت نہ رہے اور اسے رکھنے کی صورت میں ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو اسے فروخت کیا جاسکتا ہے اور حاصل ہونے والی رقم اسی مسجد کی ضروریات میں خرچ کرنا ضروری ہے۔ پوچھی گئی صورت میں چونکہ اب بچی ہوئی ریتی کی ضرورت نہیں تو اسے بیچ کر اس کی رقم مسجد کی کسی دوسری ضرورت میں استعمال کرسکتے ہیں ۔
الفتاوی الهندیة: (458/2، ط: دار الفکر) وذکر أبو اللیث في نوازله: حصیر المسجد إذا صار خلقاً واستغنی أهل المسجد عنه وقد طرحه إنسان إن کان الطارح حیاً فهو له وإن کان میتاً ولم یدع له وارثاً أرجو أن لا بأس بأن یدفع أهل المسجد إلی فقیر أو ینتفعوا به في شراء حصیر آخر للمسجد. والمختار أنه لایجوز لهم أن یفعلوا ذلک بغیر أمر القاضي، کذافي محیط السرخسي". الشامیة:(2/ 269،ط:دارالفکر) وللوكيل أن يدفع لولده الفقير وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال: ربها ضعها حيث شئت،»،،،،،،،قوله: لولده الفقير) وإذا كان ولدا صغيرا فلا بد من كونه فقيرا أيضا لأن الصغير يعد غنيا بغنى أبيه أفاده ط عن أبي السعود وهذا حيث لم يأمره بالدفع إلى معين؛ إذ لو خالف ففيه قولان حكاهما في القنية. وذكر في البحر أن القواعد تشهد للقول بأنه لا يضمن لقولهم: لو نذر التصدق على فلان له أن يتصدق على غيره. اهـ. أقول: وفيه نظر لأن تعيين الزمان والمكان والدرهم والفقير غير معتبر في النذر لأن الداخل تحته ما هو قربة، وهو أصل التصدق دون التعيين فيبطل، وتلزم القربة كما صرحوا به، وهنا الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره فتأمل.