ڈالر اور پاکستانی روپے کے تبادلے میں پاکستانی کرنسی دے کر ایک ہفتے کے بعد ڈالر وصول کیے جا سکتے ہیں یا نہیں؟
واضح رہے کہ مختلف ممالک کی کرنسیاں الگ الگ جنس کے حکم میں ہیں، اس لیے ان کا تبادلہ کمی بیشی کے ساتھ جائز ہے، البتہ ضروری ہے کہ دونوں طرف سے لین دین مجلسِ عقد ہی میں نقد (دست بدست) ہو، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں پاکستانی کرنسی کو ڈالر کے بدلے ادھار دینا یا ادھار پر اس کا تبادلہ کرنا شرعاً جائز نہیں۔
الدرالمختار : (5/ 259، ط: دارالفكر) (فلو باع) النقدين (أحدهما بالآخر جزافا أو بفضل وتقابضا فيه) أي المجلس (صح، و) العوضان (لا يتعينان) حتى لو استقرضا فأديا قبل افتراقهما أو أمسكا ما أشار إليه في العقد وأديا مثلهما جاز. البحر الرائق: (6/ 211، ط: دارالكتاب الاسلامي ) قوله (فلو باع الذهب بالفضة مجازفة صح إن تقابضا في المجلس) لأن المستحق هو القبض قبل الافتراق دون التسوية لما روينا . البناية شرح الهداية: (8/ 399، ط: دار الكتب العلمية) واعلم أن بيع الذهب بالفضة أو الفضة بالذهب يجوز مجازفة سواء كان متساويين في الوزن أو أقل أو كان أحدهما أكثر من الآخر؛ لأن المساواة ليست بمشروطة عند اختلاف الجنسين لما روي من حديث عبادة بن الصامت رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا اختلفت هذه الأصناف فبيعوا كيف شئتم، إذا كان يدا بيد» فلما لم تكن المساواة مشروطة لم تكن المجازفة حراما .