مفتی صاحب! میرا جیز کیش اکاؤنٹ ہے، اگر اس میں پیسے کچھ رکھے ہوئے ہوں تو کمپنی کی طرف سے فری منٹس اور کچھ پیکجز وغیرہ ملتے ہیں، کیا ان کو استعمال کیا جا سکتا ہے؟ کسی نے کہا کہ یہ سود ہے۔
اکاؤنٹ میں موجود رقم قرض کے حکم میں ہوتی ہے اور قرض پر مشروط یا معروف نفع حاصل کرنا سود کے حکم میں آتا ہے، لہٰذا ایزی پیسہ، جاز کیش اور دیگر موبائل اکاؤنٹس میں رقم رکھنے پر ملنے والی مراعات، جیسے مفت منٹس، ایس ایم ایس، انٹرنیٹ پیکجز وغیرہ، اگر صرف رقم جمع رکھنے کی وجہ سے ملیں تو ان سے فائدہ اٹھانا شرعاً جائز نہیں۔
مرقاة المفاتيح: (5/ 1926، ط:دارالفكر) لما ورد " كل قرض جر نفعا فهو ربا ". قال مالك: لا تقبل هدية المديون ما لم يكن مثلها قبل أو حدث موجب لها. قال ابن حجر رحمه الله: ونظيره الإهداء للقاضي والأولى له أن يتنزه عنه فإن قيل: فالأولى أن يثيبه بقدر هديته أو أكثر ولقد بالغ إمام المتورعين في زمنه أبو حنيفة رحمه الله حيث جاء إلى دار مدينه ليتقاضاه دينه وكان وقت شدة الحر ولجدار تلك الدار ظل فوقف في الشمس إلى أن خرج المدين بعد أن طال الإبطاء في الخروج إليه وهو واقف في الشمس صابر على حرها غير مرتفق بتلك الظل لئلا يكون له رفق من جهة مدينه، وفيه أن مذهب ذلك الإمام أن قبول رفق المدين حرام كالربا، ومذهبنا كأكثر العلماء أنه لا يحرم إلا إن كان شرط عليه ذلك في صلب العقد الذي وجب ذلك الدين بسببه. الشامية : (5/ 166، ط: دارالفكر) (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة.