مفتی صاحب! ہم لوگوں نے ایک جانور خریدا، اس جانور کے ساتھ بیوپاری نے ہمیں ایک بکری ہدیہ میں دی تو کیا اس بکری کو ذبح کرنا لازم ہے ؟
قربانی کے جانور کے ساتھ بطورِ ہدیہ یا مفت ملنے والی جانور کی قربانی کرنا واجب نہیں، البتہ اگر کوئی شخص اللہ کی رضا کے لیے نفلی قربانی کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔ پوچھی گئی صورت میں بکری چونکہ آپ کو تحفے کے طور پر ملی ہے، اس لیے آپ کو اختیار ہے کہ اس کی قربانی کریں ، اسے خود پالیں یا فروخت کردیں۔
*الهندية:(291/5،ط: دارالفكر)* ولو ملك إنسان شاة فنوى أن يضحي بها، أو اشترى شاة ولم ينو الأضحية وقت الشراء ثم نوى بعد ذلك أن يضحي بها لا تجب عليه سواء كان غنيا أو فقيرا. *تبيين الحقائق:(5/6،ط:دار الكتاب الإسلامي)* وهب له أو تصدق عليه فنوى بقلبه لا تصير أضحية بالإجماع؛ لأن العقد لا يصلح للتعين في الإيجاب، وكذا لو كانت الشاة عنده فأضمر بقلبه الأضحية لا تصير أضحية بالإجماع ثم في كل موضع تصير أضحية لا ينبغي أن يبيعها؛ لأن الأضحية لا تباع فإن باعها قبل مضي أيام النحر أو بعد مضيها نفذ البيع، وتصدق بقيمتها عند أبي حنيفة ومحمد، وعند أبي يوسف لا ينفذ البيع، ولا الهبة بل يتصدق.