اقامت میں حي على الصلاة اور حي على الفلاح کے وقت منہ پھیرنے کا حکم

فتوی نمبر :
2489
عبادات / نماز /

اقامت میں حي على الصلاة اور حي على الفلاح کے وقت منہ پھیرنے کا حکم

مفتی صاحب !
کیا اقامت میں حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کے وقت چہرہ پھیرنا سنت ہے؟ اذان کی طرح۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اذان میں حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کہتے وقت دائیں اور بائیں جانب منہ پھیرنا احادیث سے ثابت ہے ، جبکہ اقامت میں حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کے وقت دائیں اور بائیں جانب منہ پھیرنا احادیث سے ثابت نہیں ، اس لیے اس بارے میں فقہاء کرام کی آراء مختلف ہیں ، بعض فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ اقامت اور اذان میں مماثلت ہے ، اس لیے اقامت میں بھی حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح پر منہ پھیرنا چاہیے، جبکہ دیگر فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اذان میں مقصود دور کے لوگوں کو خبر دینا ہوتا ہے، اس لیے اذان میں دائیں بائیں منہ پھیرنا چاہیے، جبکہ اقامت میں صرف مسجد میں موجود لوگوں کو خبر دینا مقصود ہوتا ہے اس لیے اقامت میں منہ نہیں پھیرنا چاہیے اور بعض حضرات نے اس میں تطبیق یہ دی ہے کہ اگر مسجد بڑی ہو تو اقامت میں بھی دائیں بائیں منہ پھیرنا چاہیے۔

حوالہ جات

*البحر الرائق: (1/ 272،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
(قوله: ‌ويلتفت ‌يمينا ‌وشمالا ‌بالصلاة ‌والفلاح) لما قدمناه ولفعل بلال رضي الله عنه على ما رواه الجماعة، ثم أطلقه فشمل ما إذا كان وحده على الصحيح لكونه سنة الأذان فلا يتركه خلافا للحلواني لعدم الحاجة إليه وفي السراج الوهاج أنه من سنن الأذان فلا يخل المنفرد بشيء منها حتى قالوا في الذي يؤذن للمولود ينبغي أن يحول. اهـ.
وقيد باليمين والشمال؛ لأنه لا يحول وراءه لما فيه من استدبار القبلة ولا أمامه لحصول الإعلام في الجملة بغيرها من كلمات الأذان وقوله بالصلاة والفلاح لف ونشر مرتب يعني أنه يلتفت يمينا بالصلاة وشمالا بالفلاح وهو الصحيح خلافا لمن قال: إن الصلاة باليمين والشمال والفلاح كذلك، وفي فتح القدير أنه الأوجه ولم يبين وجهه وقيد بالالتفات؛ لأنه لا يحول قدميه لما رواه الدارقطني عن بلال قال «أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أذنا أو أقمنا أن لا نزيل أقدامنا عن مواضعها» وأطلق في الالتفات ولم يقيده بالأذان وقدمنا عن الغنية أنه يحول في الإقامة أيضا وفي السراج الوهاج لا يحول فيها؛ لأنها لإعلام الحاضرين بخلاف الأذان فإنه إعلام للغائبين، وقيل يحول إذا كان الموضع متسعا.

*حاشية الطحطاوي: (97،ط:دار الكتب العلمية)*
ويحول ‌في ‌الإقامة إذا كان المكان متسعا وهو أعدل الأقوال كما في النهر.

*تبيين الحقائق: (1/ 92،ط:دار الكتاب الاسلامى)*
وفي البستان لا يحول في الإقامة إلا لإناس ينتظرون، ذكره التمرتاشي.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
5
فتوی نمبر 2489کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --