دو جگہ گھر ہونے کی صورت میں قصر کا حکم اور جانور کو آدھے منافع پر دینا

فتوی نمبر :
2130
عبادات / نماز /

دو جگہ گھر ہونے کی صورت میں قصر کا حکم اور جانور کو آدھے منافع پر دینا

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص دبئی میں کام کرتا ہے، اس کو کمپنی نے دبئی میں گھر دیا ہے، لیکن اس شخص نے اپنے لئے ابو ظہبی میں کرایہ پر بھی گھر لیا ہے، اپنے ملک جب آتا ہے تو اسی جگہ سے آتا ہے، یہاں سے جب جاتا ہے تو اسی جگہ پر جاتا ہے، لیکن کمپنی نے اسے دبئی میں گھر دیا ہے، وہاں مہینہ یا زیادہ رہتا ہے، لیکن وہ ابو ظہبی بھی ٹرپ لگاتا رہتا ہے، روازنہ یا ہفتے میں ایک بار جاتا ہے راستے میں تو وہ سفر کی نماز پڑھے گا، لیکن ابو ظہبی کی حدود میں پوری نماز پڑھے گا یا قصر کرےگا؟ اس لئے کہ ابو ظہبی کے گھر کا کرایہ ادا کرتا ہے اور دبئی والا گھر تو عارضی ہے، جب تک کمپنی میں ملازمت ہے۔
دوسرا مسئلہ یہ پوچھنا تھا کہ جانوروں کو آدھے، منافع پر دینا جائز ہے یا نہیں؟
تنقیح :
محترم! آپ یہ وضاحت کریں کہ مذکور شخص کہاں رہائش پذیر ہے،دبئی میں یا ابو ظہبی میں اور ان دونوں علاقوں میں کتنا فاصلہ ہے؟
جواب تنقیح:
مفتی صاحب!
اس شخص کی دونوں جگہ رہائش ہے، کیونکہ کمپنی کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے وہ دبئی میں ہوتا ہے اور اس نے اپنے لئے ابو ظہبی میں بھی رہائش کرایہ پر لی ہے، رشتہ دار وغیرہ سب یہاں ہوتے ہیں تو ان کا آنا جانا یہاں سے ہوتا ہے اور وہ دبئی سے ابو ظہبی گاڑی چلاتا ہے، دو دن بعد یا ہفتے میں ٹرپ لگتا ہے
اور دونوں علاقوں کے درمیان تقریبا سو ڈیڑھ سو کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ فقہا نے وطن کی تین قسمیں بیان کی ہیں۔
1) وطنِ اصلی:جہاں انسان مستقل رہنے کے ارادے سے رہائش اختیار کرے، خواہ وہ آبائی گاؤں ہو یا کوئی دوسرا شہر، یہ وطن اس وقت تک باقی رہتا ہے جب تک وہاں سے مستقل سکونت ختم نہ کی جائے۔
2)وطنِ اقامت:وہ جگہ جہاں پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کا ارادہ ہو، یہ وطن عارضی ہوتا ہے۔
3) وطن سفر: وہ جگہ جہاں پندرہ دن سے کم قیام کا ارادہ ہو۔
پوچھی گئی صورت میں چونکہ مذکور شخص مستقل طور پر ابو ظہبی میں رہائش پذیر ہے، اس لیے وہ ان کا وطنِ اصلی شمار ہوگا اور وہاں جانے کی صورت میں بھی مکمل نماز پڑھنا لازم ہوگا، قصر کی اجازت نہیں ۔
2)کسی کو جانور اس شرط پر دینا کہ وہ پرورش کرے اور پیدا ہونے والا بچہ آپس میں تقسیم ہوگا، جائز نہیں۔ اگر ایسا معاملہ ہو جائے تو فوراً فسخ کرنا لازم ہے۔
فسخ سے پہلے اگر بچہ پیدا ہو جائے تو وہ اصل مالک کا ہوگا اور پرورش کرنے والے کو اجرتِ مثل دی جائے گی، نیز اگر اس نے اپنے خرچ سے چارہ ڈالا ہو تو اس کی قیمت بھی ادا کی جائے گی۔
اس کی جائز صورت یہ ہے کہ مالک جانور کا آدھا حصہ پرورش کرنے والے کو فروخت کر دے، دونوں شریک بن جائیں، پرورش اور اخراجات برابر برداشت کریں اور حاصل ہونے والا نفع (بچہ، دودھ، اون) برابر تقسیم کریں۔ بعد میں شراکت ختم کرنی ہو تو ایک شریک دوسرے کو حصہ بیچ دے یا جانور بیچ کر رقم تقسیم کر لیں۔

حوالہ جات

*الشامية:(132/2،ط: دارالفكر)*
(قوله الوطن الأصلي) ويسمى بالأهلي ووطن الفطرة والقرار ح عن القهستاني.
(يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما (لا غير و) يبطل (وطن الإقامة بمثله و) بالوطن (الأصلي و) بإنشاء (السفر) والأصل أن الشيء يبطل بمثله، وبما فوقه لا بما دونه.

*مراقی الفلاح:(165/1،ط: المكتبة العصرية)*
ويبطل الوطن الأصلي بمثله فقط ويبطل وطن الإقامة بمثله وبالسفر وبالأصلي والوطن الأصلي هو الذي ولد فيه أو تزوج أو لم يتزوج وقصد التعيش لا الارتحال عنه ووطن الإقامة موضع نوى الإقامة فيه نصف شهر فما فوقه ولم يعتبر المحققون وطن السكنى وهو ما ينوي الإقامة فيه دون نصف شهر.

*ملتقى الابحر:(243/1،ط: دارالكتب العلمية)*
ويبطل الوطن الأصلي بمثله لا بالسفر ووطن الإقامة بمثله والسفرالأصلي.

*العناية شرح الهداية:(44/2،ط: دارالفكر)*
أن الوطن الأصلي يبطل بالوطن الأصلي دون وطن الإقامة، وإنشاء السفر وهو أن يخرج قاصدا مكانا يصل إليه في مدة السفر لأن الشيء إنما يبطل بما فوقه أو ما يساويه وليس فوقه شيء فيبطل بما يساويه، ألا ترى أن رسول الله ﷺ بعد الهجرة عد نفسه بمكة من المسافرين وقال «أتموا صلاتكم فإنا قوم سفر» وأما وطن الإقامة فله ما يساويه وما هو فوقه فيبطل بكل منهما وبإنشاء السفر أيضا لأنه ضده.

*المحيط البرهاني:(43/6،ط: دارالکتب العلمیة)*
ولو أن رجلًا دفع دابة إلى رجل ليؤاجرها؛ على أن ما آجرها من شيء، فهو بينهما نصفان، فهذه الشركة فاسدة، والأجر كله لرب الدابة، وللذي آجرها أجر مثل عمله.

*الھندیة:(335/2،ط: دار الفكر )*
وعلى هذا إذا دفع البقرة إلى إنسان بالعلف ليكون الحادث بينهما نصفين فما حدث فهو لصاحب البقرة ولذلك الرجل مثل العلف الذي علفها وأجر مثله فيما قام عليها .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
18
فتوی نمبر 2130کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --