تنخواہ بڑھانے کا طریقہ کار

فتوی نمبر :
1095
معاملات / مالی معاوضات /

تنخواہ بڑھانے کا طریقہ کار

ایک کمپنی کی طرف سے ملازم کی تنخواہ بڑھانے کی کوئی خاص پالیسی نہیں ہے ، جو ملازم اچھا کام کرتا ہے یاکوئی ملازم تنخواہ بڑھانے کی بات کرتا ہے ،توکمپنی کے مالکان اس کے کام کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی حساب سے اگلے ماہ اس کے تنخواہ میں اضافہ کردیتے ہیں ، یہ مالکان کے صوابدید پر ہے ، کام پر رکھتے وقت تنخواہ بڑھانے کی کوئی بات نہیں کی جاتی ۔
مذکورہ صورت کا شرعی حکم کیا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ ملازم کے ساتھ جو معاہدہ اس کو کام پر رکھتے وقت ہوا تھا اس کی پاسداری ضروری ہے ، طے شدہ تنخواہ ادا کرنا لازم ہےاور اس میں بلاکسی وجہ کے کمی کرنا حرام ہے ، تاہم کسی ملازم کے کام سے خوش ہو کر اس کے تنخواہ بڑھانا ایک اچھا عمل اور حوصلہ افزائی کا باعث ہے ۔

حوالہ جات

القرأن الكريم : [الرحمن:/55 60]
هَلۡ جَزَآءُ ٱلۡإِحۡسَٰنِ إِلَّا ٱلۡإِحۡسَٰنُ .

القرأن الكريم :[النحل:/16 90]
إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُ بِٱلۡعَدۡلِ وَٱلۡإِحۡسَٰنِ .

فتاویٰ محمودیہ :(۲۳،۲۳۷،ط: جامعہ فاروقیہ کراچی)
دکان میں ترقی کی وجہ سے ملازم کی تنخواہ میں اضافہ کردینا بحیثیت معاملہ واجب ہے ، البتہ بطور شکرانہ اور حق خدمات کے مد میں اخلاقاً اضافہ کردینا چاہیے ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
52
فتوی نمبر 1095کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --