کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں سنا ہے کہ عید کے دن لوگوں سے گلے ملنا آپ ﷺ اور حضرات صحابہ کرام سے ثابت نہیں، بلکہ یہ بعد کی ایجاد کردہ بدعت ہے ، اس بارے میں شریعت کیا کہتی ہے ؟
اسی طرح یہ سنا ہے کہ اگر کسی شخص سے عرصے کے بعد عید کے دن ملاقات ہو تو اس سے گلے ملنے میں کوئی حرج نہیں ، لیکن خواہ مخواہ اگر کوئی گلے ملنے کے لیے آگے بڑھے تو اچھے طریقے سے منع کردینا چاہیے ، اس کا کیا حکم ہے ؟
عید خوشی، شکر اور باہمی محبت کا دن ہے، عید کی نماز کے بعد یا کسی دوسری خوشی کے موقع پر مصافحہ ،معانقہ کرنا ان لوگوں کے لیے جو کافی عرصے بعد یا پہلی مرتبہ ایک دوسرے سے مل رہے ہوں، جائز ہے، البتہ جو لوگ ایک ساتھ آئے ہوں اور ایک ساتھ نمازِ عید ادا کی ہو، ان کے لیے سنت یا مستحب نہیں، اس کو لازم سمجھ کر کرنا بدعت ہے، اس سے اجتناب لازم ہے۔
تاہم زبانی طور پرعید کی مبارک باد دینا دراصل خیر و برکت اور قبولیتِ اعمال کی دعا ہے، جو ایک پسندیدہ عمل ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عید کے موقع پر ایک دوسرے کو یہ دعا دیا کرتے تھے:”اللہ ہمارے اور تمہارے نیک اعمال قبول فرمائے۔“
*سنن الترمذي :(447/4،رقم الحديث:2727،ط:دار الغرب الإسلامي)*
حدثنا سفيان بن وكيع وإسحاق بن منصور، قالا: حدثنا عبد الله بن نمير ، عن الأجلح ، عن أبي إسحاق، عن البراء بن عازب قال: قال رسول الله ﷺ: «ما من مسلمين يلتقيان فيتصافحان إلا غفر لهما قبل أن يفترقا».
*السنن الكبرى للبيهقي:(446/3،رقم الحديث:6294،ط:دار الكتب العلمية)*
أخبرنا أبو الحسن بن عبدان، أنبأ أحمد بن عبيد، ثنا إسحاق بن إبراهيم بن سفيان، ثنا أبو علي أحمد بن الفرج المقرئ، ثنا محمد بن إبراهيم الشامي، ثنا بقية بن الوليد، عن ثور بن يزيد، عن خالد بن معدان قال: لقيت واثلة بن الأسقع في يوم عيد، فقلت: تقبل الله منا ومنك، فقال: «نعم، تقبل الله منا ومنك»، قال واثلة: «لقيت رسول الله ﷺ يوم عيد فقلت: تقبل الله منا ومنك، قال:»نعم، تقبل الله منا ومنك ".
*الشامية:(169/2،ط: دارالفكر)*
(قوله لا تنكر) خبر قوله والتهنئة وإنما قال كذلك لأنه لم يحفظ فيها شيء عن أبي حنيفة وأصحابه، وذكر في القنية أنه لم ينقل عن أصحابنا كراهة وعن مالك أنه كرهها، وعن الأوزاعي أنها بدعة، وقال المحقق ابن أمير حاج: بل الأشبه أنها جائزة مستحبة في الجملة ثم ساق آثارا بأسانيد صحيحة عن الصحابة في فعل ذلك ثم قال: والمتعامل في البلاد الشامية والمصرية عيد مبارك عليك ونحوه وقال يمكن أن يلحق بذلك في المشروعية والاستحباب لما بينهما من التلازم فإن من قبلت طاعته في زمان كان ذلك الزمان عليه مباركا على أنه قد ورد الدعاء بالبركة في أمور شتى فيؤخذ منه استحباب الدعاء بها هنا أيضا.