السلام علیکم ورحمۃ اللّہ وبرکاتہ مفتی صاحب امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے
ایک مسئلہ درکار تھا کے آج کل جو فلیٹ کی بکنگ ہوتی ہے صحیح ہے کیا؟ کیوں کے وہ چیز موجود نہیں ہوتی اگر صحیح نہیں تو اس کی کیا صورت بنے گی؟
واضح رہے کہ اگر کسی چیز کا وجود نہ ہو تو اس کی خرید وفروخت جائز نہیں، مروجہ فلیٹ کی ایڈوانس بکنگ میں بھی یہی خرابی پائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے عام حالات میں تو ایڈوانس بکنگ جائز نہیں ہوگی، لیکن موجودہ زمانے میں چونکہ اس کا عرف عام ہو چکا ہے، لہٰذا اگر اس میں استصناع کی شرائط پائی جائیں تو ان شرائط پر عمل کرتے ہوئے فلیٹ کی ایڈوانس بکنگ کی گنجائش ہوگی۔
شرائط:
(1) فلیٹ کی نوع، جنس اور تمام اوصاف یعنی فلور ، کمروں کی تعداد، استعمال ہونے والے تمام مٹیریل کی تفصیلات طے کر لی جائیں۔
(2) بیچنے والے پر ان تمام امور کی رعایت کرتے ہوئے فلیٹ مکمل کرنا ضروری ہے، طے کردہ اوصاف میں سے اگر کوئی ایک وصف بھی نہ پایا جائے تو خریدار کو اختیار ہوگا، لینا چاہے تو لے، ورنہ چھوڑ دے۔
*الھندیة:(517/2، ط:دارالفکر)*
الاستصناع ان تکون العین والعمل من الصانع اما اذا کانت العین من المستصنع لامن الصانع فانہ یکون اجارۃ لایکون استصناعا.
*بدائع الصنائع:(2/5،ط: دارالفکر)*
ھو عقد علی مبیع فی الذمۃ شرط فیہ العمل.
*الشامیة:(236/4،ط:دارالفکر)*
ففی البدائع: من شروطہ بیان جنس المصنوع ونوعہ وقدرہ وصفتہ وان یکون ممافیہ تعامل وان لایکون مؤجلاً والا کان سلمًا وعندھما المؤجل استصناع الا اذا کان مما لایجوز فیہ الاستصناع فینقلب سلما فی قولھم جمیعًا.
*شرح مجلة الاحکام: (221)*
اذا انعقد الاستصناع فلیس لاحد العاقدین الرجوع عنہ واذا لم یکن المصنوع علی الاوصاف المطلوبۃ المبینۃ کان المستصنع مخیراً.