دوسرے بندے کے خون سے اپنا علاج کروانا

فتوی نمبر :
1111
حظر و اباحت / جائز و ناجائز /

دوسرے بندے کے خون سے اپنا علاج کروانا

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مریض سخت بیماری کی عالم میں کسی دوسرے بندے کے خون سے اپنا علاج کروا سکتا ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر بیماری کی صورت حال ایسی ہو کہ اگر مریض کو کسی دوسرے شخص کا خون نہ چڑھایا جائے تو اس کی جان جانے یامزید سخت بیمار ہونے کا خدشہ ہو تو ایسی صورت میں خون چڑھانا جائز ہے۔

حوالہ جات

القرأن الكريم : [الأنعام:/6 119] ﵟ
وَقَدۡ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيۡكُمۡ إِلَّا مَا ٱضۡطُرِرۡتُمۡ إِلَيۡهِۗ .

الدرالمختار: (3/ 211، ط: دارالفكر)
(ولم يبح الإرضاع بعد موته) ‌لأنه ‌جزء ‌آدمي والانتفاع به لغير ضرورة حرام على الصحيح شرح الوهبانية.
فتاویٰ عثمانیہ :(۱۰، ص ۲۰۰ ،ط: الوصر اکیڈمی )
اکثر علماء نے ایک انسان کا خون دوسرے انسان کے بدن میں چڑھانے کی اجازت دی ہے اس لیے کہ انسان کی جان بچانے کے لیے دودھ اور خون کا عطیہ دینا ایک جیسا ہے ۔

آلات جدیدہ کے شرعی احکام :(ص ۱۹۵، ط: ادارۃ المعارف)
خون دینے سے جان بچنے کی قوی امید ہو تو ایسے حالت میں خون دے کر علاج کیا جاسکتا ہے ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
66
فتوی نمبر 1111کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --