کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مریض سخت بیماری کی عالم میں کسی دوسرے بندے کے خون سے اپنا علاج کروا سکتا ہے یا نہیں ؟
اگر بیماری کی صورت حال ایسی ہو کہ اگر مریض کو کسی دوسرے شخص کا خون نہ چڑھایا جائے تو اس کی جان جانے یامزید سخت بیمار ہونے کا خدشہ ہو تو ایسی صورت میں خون چڑھانا جائز ہے۔
القرأن الكريم : [الأنعام:/6 119] ﵟ
وَقَدۡ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيۡكُمۡ إِلَّا مَا ٱضۡطُرِرۡتُمۡ إِلَيۡهِۗ .
الدرالمختار: (3/ 211، ط: دارالفكر)
(ولم يبح الإرضاع بعد موته) لأنه جزء آدمي والانتفاع به لغير ضرورة حرام على الصحيح شرح الوهبانية.
فتاویٰ عثمانیہ :(۱۰، ص ۲۰۰ ،ط: الوصر اکیڈمی )
اکثر علماء نے ایک انسان کا خون دوسرے انسان کے بدن میں چڑھانے کی اجازت دی ہے اس لیے کہ انسان کی جان بچانے کے لیے دودھ اور خون کا عطیہ دینا ایک جیسا ہے ۔
آلات جدیدہ کے شرعی احکام :(ص ۱۹۵، ط: ادارۃ المعارف)
خون دینے سے جان بچنے کی قوی امید ہو تو ایسے حالت میں خون دے کر علاج کیا جاسکتا ہے ۔