آن لائن ٹریڈنگ کا حکم

فتوی نمبر :
1398
معاملات / مالی معاوضات /

آن لائن ٹریڈنگ کا حکم

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
مسئلہ یہ عرض کرنا ہے کہ آج کل بعض لوگ ٹریڈنگ میں کچھ زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں تو اس حوالے سے شریعت کا کیا حکم ہے؟ جائز ہے یا نہیں اور اگر ناجائز ہے تو کیا مطلق ناجائز ہے یا چند صورتوں کی بنا پر؟ رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللّٰہ خیر

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

خرید و فروخت کے لیے تین شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:
(1) لین دین حقیقی ہو، فقط اکاؤنٹ میں ظاہر نہ کیا جائے۔
(2) بیچنے والا چیز کا حقیقتاً مالک ہو اور بیچنے والا اس پر قبضہ بھی کر چکا ہو۔
(3) مختلف ممالک کی کرنسیوں کالین دین ہو تو مجلس عقد میں ہی کسی ایک کرنسی پر قبضہ کر لیا جائے۔حقیقی خرید و فروخت نہ ہونے کی بنا پر اکثر صورتوں میں ’’بیع الدین بالدین‘‘ (ادھار کی بیع ادھار کے ساتھ) ہوتی ہے، جو کہ ناجائز ہے۔
اگر آن لائن ٹریڈنگ میں اسکرین پر محض اعداد و شمار کے بڑھنے اور کم ہونے کو نفع اور نقصان شمار کیا جاتا ہو، کسی چیز پر قبضہ نہ کیا جائے تو اس لحاظ سے اس میں قمار (جوا)کی قباحت پائی جاتی ہے، اس لیے یہ ناجائز ہے۔
نیز اگر اس میں حسی یا حقیقی قبضہ نہ ہو، یوں سب لوگ بغیر قبضہ کیے اس کو آگے فروخت کر دیں تو یہ جائز نہیں۔

لہذا آن لائن ٹریڈنگ قمار (جوا) ، بیع المعدوم(غیر موجود شئی کی بیع) ، بیع قبل القبض (قبضہ سے پہلے مبیع آگے فروخت کرنا) اور بیع الکالی بالکالی(قرض کی قرض کے بدلے بیع)پر مشتمل ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور اس میں سرمایہ کاری شرعا جائز نہیں، اس لیے اس سے احتراز لازم ہے۔
البتہ اگر کوئی خاص صورت ایسی ہو جس میں یہ خرابیاں نہ پائی جائیں تو وہ صورت تفصیل سے لکھ کر دوبارہ معلوم کر لیں ۔

حوالہ جات

*المائدہ:7:90)*
قال الله تعالى: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ.

*الشامية:(505/4،ط: دارالفکر)*
وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم.

*ایضاً:(561/4)*
ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل. وشرط في الأجناس شرطا ثالثا وهو أن يقول: خليت بينك وبين المبيع فلو لم يقله أو كان بعيدا لم يصر قابضا والناس عنه غافلون، فإنهم يشترون قرية ويقرون بالتسليم والقبض، وهو لا يصح به القبض على الصحيح وكذا الهبة والصدقة.

*المبسوط للسرخسي:(14/4،ط: دار الکتاب الاسلامی)*
ولأن هذا العقد مبادلة الثمن بالثمن والثمن يثبت بالعقد دينا في الذمة والدين بالدين حرام في الشرع لنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن بيع الكالئ بالكالئ فما يحصل به التعيين وهو القبض لا بد منه في هذا العقد.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
62
فتوی نمبر 1398کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --