کمپنی سے قرض لی گئی رقم سے گاڑی خرید کر کمپنی کے کاموں میں استعمال کرنا

فتوی نمبر :
2193
معاملات / مالی معاوضات /

کمپنی سے قرض لی گئی رقم سے گاڑی خرید کر کمپنی کے کاموں میں استعمال کرنا

محترم مفتی صاحب!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک معاملے کے بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔ دبئی میں ایک اسکول/ادارہ ہے جو اپنے ملازمین کے لیے ایک مخصوص نظام چلاتا ہے۔ اس نظام کے تحت ادارہ ایک شخص کو تقریباً ایک لاکھ روپے دیتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کی کوئی گاڑی خرید لے۔ اگر گاڑی کی قیمت مثلاً ایک لاکھ چالیس ہزار روپے ہو تو باقی چالیس ہزار روپے وہ شخص اپنی طرف سے ادا کرتا ہے۔
گاڑی اسی شخص کے نام پر رجسٹرڈ ہوتی ہے، اور گاڑی سے متعلق تمام اخراجات (رجسٹریشن، ٹرانسپورٹ، مرمت وغیرہ) بھی اسی شخص کے ذمہ ہوتے ہیں، ادارہ ان اخراجات کا ذمہ دار نہیں ہوتا۔
مزید یہ کہ اسی گاڑی پر ادارہ اسی شخص کو کام بھی دیتا ہے (یعنی وہ گاڑی ادارے کے کام کے لیے استعمال ہوتی ہے)، مگر گاڑی کی ملکیت پھر بھی اسی شخص کی رہتی ہے۔
پھر تین سال مکمل ہونے کے بعد وہ شخص ادارے کو دیے گئے ایک لاکھ روپے کے بدلے ایک لاکھ بیس ہزار روپے واپس کرتا ہے۔
اب دریافت یہ ہے کہ:کیا یہ معاملہ شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟ کیا یہ رقم قرض کے حکم میں آئے گی؟
ایک لاکھ کے بدلے ایک لاکھ بیس ہزار واپس لینا کیا سود کے زمرے میں شمار ہوگا؟
نیز یہ بات کہ ادارہ اسی گاڑی پر اسی شخص کو کام دیتا ہے، کیا اس سے حکم میں کوئی فرق پڑتا ہے؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس معاملے کی وضاحت فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بیان کردہ صورت میں کمپنی سے ملنے والی رقم کی حیثیت قرض کی ہے، لہذا اس رقم سے اضافی رقم دینا اور کمپنی کے لیے اضافی رقم وصول کرنا جائز نہیں ، بلکہ سود ہے۔
نیز اس رقم سے خریدی گئی گاڑی کو اگرچہ کمپنی کے کاموں کے لیے استعمال کیا جائے، تب بھی قرض سے اضافی رقم جائز نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

*سنن ابي داوود:(222/5،رقم الحديث 3333،ط:دار الرسالة العالمية)*
حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا سماك، حدثني عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعودعن أبيه، قال: لعن رسول الله ﷺ آكل الربا وموكله وشاهده وكاتبه.

*العناية شرح الهداية:(233/12،ط:دار الكتب العلمية)*
وأخرج البيهقي أيضا من حديث إدريس بن يحيى عن عبد الله بن عياش حدثنا يزيد بن حبيب، عن أبي مرزوق النخعي عن فضالة بن عبيد أنه قال: كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا.

*المحيط البرهاني:(126/7،ط:دار الكتب العلمية)*
قال محمد ﵀ في كتاب الصرف: إن أبا حنيفة كان يكره كل قرض جر منفعة قال الكرخي: هذا إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد بأن أقرض عادلية صحاحًا أو ما أشبه ذلك، فإن لم تكن المنفعة مشروطة في العقد، فأعطاه المستقرض أجود مما عليه، فلا بأس به.

*الشامية:(166/5،ط:دارالفكر)*
وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن.
(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه (قوله فكره للمرتهن إلخ) الذي في رهن الأشباه يكره للمرتهن الانتفاع بالرهن إلا بإذن الراهن.

*العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (279/1،ط:دار المعرفة)*
(سئل) في رجل استقرض من آخر مبلغا من الدراهم وتصرف بها ثم غلا سعرها فهل عليه رد مثلها؟
(الجواب): نعم ولا ينظر إلى غلاء الدراهم ورخصها كما صرح به في المنح في فصل القرض مستمدا من مجمع الفتاوى.

*بدائع الصنائع:(395/7۔ط:دارالكتب العلمية)*
(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن ‌قرض ‌جر ‌نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
22
فتوی نمبر 2193کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --