’’اسلام میں داڑھی ہے، داڑھی میں اسلام نہیں‘‘کیا یہ جملہ بولنا درست ہے؟
واضح رہے کہ داڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیائےکرام علیہم السلام کی سنت اور شعائرِ اسلام میں سے ہے اور مردوں کے لیے ایک مٹھی داڑھی رکھنا واجب ہے۔
اگر کوئی شخص داڑھی کی توہین، تحقیر یا اس کا مذاق اڑاتے ہوئے یا داڑھی کی اصلاً مشروعیت کا انکار کرتے ہوئے یہ جملہ کہے کہ ’’اسلام میں داڑھی ہے، داڑھی میں اسلام نہیں‘‘ تو ایسا شخص کافر ہے، جس کی وجہ سے توبہ، استغفار اور تجدیدِ ایمان لازم ہے، البتہ اگر کوئی شخص داڑھی کو شرعی حکم، اسلامی شعار اور قابلِ احترام سنت سمجھتے ہوئے یہ جملہ ایسے مفہوم میں کہے کہ داڑھی دین کا ایک اہم حصہ ہے، مگر پورا دین صرف داڑھی تک محدود نہیں، بلکہ اس کے علاوہ بھی فرائض، واجبات، سنتیں، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ایک بڑی فہرست ہے تو اس معنی کے اعتبار سے یہ کلمہ کفر نہیں، تاہم اس طرح کے جملے استعمال کرنے سے اجتناب ضروری ہے، کیونکہ اگر شرعی احکام کے متعلق ہر کوئی اس طرح کے جملے کہنا شروع کر دے تو دین کا مذاق بن جائے گا۔
*النهر الفائق شرح كنز الدقائق:(1/ 200،ط: دار الكتب العلمية)*
ففي البزازية لو لم ير السنة حقا كفر لأنه استخفاف.
*الشامية:(1/ 474،ط:دارالفكر)*
لما في النهر عن البزازية: لو لم ير السنة حقا كفر لأنه استخفاف. اهـ.
ووجهه أن السنة أحد الأحكام الشرعية المتفق على مشروعيتها عند علماء الدين، فإذا أنكر ذلك ولم يرها شيئا ثابتا ومعتبرا ثابتا في الدين يكون قد استخف بها واستهانها وذلك كفر تأمل.
*الهندية:(2/ 263،ط:دارالفكر)*
ومنها ما يتعلق بالأنبياء - عليهم الصلاة والسلام - من لم يقر ببعض الأنبياء - عليهم الصلاة والسلام -، أو لم يرض بسنة من سنن المرسلين فقد كفر.