ميراسوال یہ ہےکہ کسی کام کا کرنا یا نہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت نہ ہوتو کیا وہ کام جائز ہوتا ہے؟
واضح رہے کہ اگر کسی کام کا کرنا یا نہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت نہ ہو تو اس کام کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ کام شریعت کے کسی اور حکم کے مخالف نہ ہو تو مباح ہے اور اگر اس کو لازم اور ضروری سمجھا جائے اور نہ کرنے والوں پر نکیر کی جائے تو بدعت ہے۔
*مرقاة المفاتيح:(2/ 755،ط: دار الفكر)*
قال الطيبي: وفيه أن من أصر على أمر مندوب، وجعله عزما، ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال فكيف من أصر على بدعة أو منكر؟
*الاعتصام للشاطبي : (1/ 53،ط: دارابن عفان)*
«ومنها: التزام الكيفيات والهيئات المعينة، كالذكر بهيئة الاجتماع على صوت واحد، واتخاذ يوم ولادة النبي صلى الله عليه وسلم عيدا، وما أشبه ذلك.ومنها: التزام العبادات المعينة في أوقات معينة لم يوجد لها ذلك التعيين في الشريعة، كالتزام صيام يوم النصف من شعبان وقيام ليلته.