سنت رسول ﷺ

کسی کام کے نبی کریمﷺ اور صحابہ كرام رضی اللہ عنہم سےثابت نہ ہونےکی صورت میں اس کاحکم

فتوی نمبر :
1828
آداب / آداب زندگی / سنت رسول ﷺ

کسی کام کے نبی کریمﷺ اور صحابہ كرام رضی اللہ عنہم سےثابت نہ ہونےکی صورت میں اس کاحکم

ميراسوال یہ ہےکہ کسی کام کا کرنا یا نہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت نہ ہوتو کیا وہ کام جائز ہوتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر کسی کام کا کرنا یا نہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت نہ ہو تو اس کام کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ کام شریعت کے کسی اور حکم کے مخالف نہ ہو تو مباح ہے اور اگر اس کو لازم اور ضروری سمجھا جائے اور نہ کرنے والوں پر نکیر کی جائے تو بدعت ہے۔

حوالہ جات

*مرقاة المفاتيح:(2/ 755،ط: دار الفكر)*
قال الطيبي: وفيه أن من أصر على أمر مندوب، وجعله عزما، ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال ‌فكيف ‌من ‌أصر ‌على ‌بدعة أو منكر؟

*الاعتصام للشاطبي : (1/ 53،ط: دارابن عفان)*
«ومنها: ‌التزام ‌الكيفيات ‌والهيئات ‌المعينة، كالذكر بهيئة الاجتماع على صوت واحد، واتخاذ يوم ولادة النبي صلى الله عليه وسلم عيدا، وما أشبه ذلك.ومنها: التزام العبادات المعينة في أوقات معينة لم يوجد لها ذلك التعيين في الشريعة، كالتزام صيام يوم النصف من شعبان وقيام ليلته.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
21
فتوی نمبر 1828کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --