حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ اگر آپ کسی انسان کے عیب یا گناہ پر پردہ ڈالیں تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آپ کے عیب کو بھی پردہ میں چھپا دے گا، اب سوال یہ ہے کہ جب کوئی شخص زنا، شراب نوشی یا جوا جیسا گناہ کرے تو کیا اس پر بھی پردہ ڈالنا چاہیے؟ اس کا حکم کیا ہے؟ بینوا توجروا
واضح رہے کہ دوسروں کے عیب تلاش کرنا، ان پر تنقید کرنا یا انہیں لوگوں کے سامنے ظاہر کرنا، قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف ہے، حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے، بلند آواز سے پکارا اور فرمایا: ”اے اسلام لانے والے زبانی لوگوں کی جماعت ان کے دلوں تک ایمان نہیں پہنچا ہے! مسلمانوں کو تکلیف مت دو، ان کو عار مت دلاؤ اور ان کے عیب نہ تلاش کرو، اس لیے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیب ڈھونڈتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا عیب ڈھونڈتا ہے اور اللہ تعالیٰ جس کے عیب ڈھونڈتا ہے، اسے رسوا و ذلیل کر دیتا ہے، اگرچہ وہ اپنے گھر کے اندر ہو“۔ راوی (نافع) کہتے ہیں: ایک دن ابن عمر رضی الله عنہما نے خانہ کعبہ کی طرف دیکھ کر کہا: کعبہ! تم کتنی عظمت والے ہو! اور تمہاری حرمت کتنی عظیم ہے، لیکن اللہ کی نظر میں مومن (کامل) کی حرمت تجھ سے زیادہ عظیم ہے۔(ترمذی،حدیث نمبر:2032)
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعدد واقعات سےواضح ہوتا ہے کہ اگر کوئی مسلمان چھپ کر کوئی گناہ کر بیٹھے اور اس کا معاملہ عدالت تک نہ پہنچا ہو تو اس کے گناہ پر پردہ ڈالنا بہتر ہے۔
نسائی کی روایت میں ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے منشی حضرت دُخین ابو الہیثم رحمة اللہ علیہ کہتے ہیں میں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا ہمارے چند پڑوسی شراب پیتے ہیں ، میں اُن کے لئے پولیس کو بلانا چاہتا ہوں، تاکہ وہ ان کو پکڑ لیں۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا ایسے نہ کرو، بلکہ ان کو وعظ و نصیحت کرو اور ان کو ڈراؤ! میں نے کہا میں نے انہیں کو روکا تھا، لیکن وہ رکے نہیں، اس لئے میں تو اب ان کے لئے پولیس کو بلانا چاہتا ہوں، تاکہ وہ ان کو پکڑ لیں، حضرت عقبہ نے کہا تمہارا ناس ہو! ایسے نہ کرو ! کیوں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے کسی (مسلمان کے ) عیب کو چھپایا تو گویا اس نے زندہ در گور لڑکی کو زندہ کیا۔(سنن نسائی کبری،حدیث نمبر:7243)
مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ حضر ت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما حضرت عمار اور حضرت زبیر نے ایک چور کو پکڑا پھر انہوں نے اس کو جانے دیا، میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ سب نے برا کیا جب آپ نے اس کا راستہ خالی چھوڑا! اس پر آپ نے فرمایا! تیری ماں مرے، اگر اس کی جگہ تو ہوتا تو ضرور خواہش کرتا کہ تیرا راستہ خالی چھوڑ دیا جائے۔( مصنف ابن ابی شیبہ،حدیث نمبر:28084)
مصنف عبدالرزاق کی روایت میں ہے کہ حضرت صالح بن کرِیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میری ایک باندی سے زنا کا گناہ سرزد ہوگیا، میں اسے لے کر حضرت حَکَم بن ایوب رحمہ اللہ کے پاس گیا، میں وہاں بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور میرے قریب بیٹھ گئے، آپؓ نے پوچھا: اے صالح! یہ باندی تمہارے ساتھ کیوں ہے؟میں نے عرض کیا: میری باندی سے زنا ہوگیا ہے، میں اسے امیر کے پاس لے جا رہا ہوں تاکہ اس پر شرعی حد جاری کی جائے، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:ایسا نہ کرو! اسے واپس گھر لے جاؤ، اللہ سے ڈرو اور اس کے عیب پر پردہ ڈالو!میں نے کہا: نہیں، میں ایسا نہیں کروں گا، حضرت انس رضی اللہ عنہ پھر فرمانے لگے: ایسا مت کرو اور میری بات مان لو، آپؓ بار بار اصرار فرماتے رہے، یہاں تک کہ میں باندی کو واپس گھر لے گیا۔( مصنف عبدالرزاق، حدیث نمبر: 13623)
ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی مسلمان ایسا گناہ کر بیٹھے جو چھپا ہوا ہو، اس سے دوسروں کو ضرر نہ پہنچتا ہو، معاملہ عدالت تک نہ پہنچا ہو اور اصلاح کی امید ہو تو اس پر پردہ ڈالنا بہتر اور باعثِ اجر ہے، ایسے موقع پر نصیحت کرنی چاہیے، توبہ کی طرف متوجہ کرنا چاہیے، مگر اس کی رسوائی اور تشہیر نہیں کرنی چاہیے۔
البتہ اگر گناہ اعلانیہ کیا جا رہا ہو، یا اس سے دوسروں کو نقصان پہنچ رہا ہو، یا وہ شخص نصیحت کے باوجود باز نہ آتا ہو، یا فسادِ عام کا اندیشہ ہو، یا معاملہ حکام تک پہنچ چکا ہو تو ایسی صورت میں پردہ ڈالنا درست نہیں، بلکہ گناہ کو روکنے کے لیے مناسب اقدام کرنا ضروری ہے۔
*سنن الترمذي:(3/ 554،رقم الحدیث: 2032،ط:دارالغرب الاسلامي)*
حدثنا يحيى بن أكثم والجارود بن معاذ، قالا: حدثنا الفضل بن موسى، قال: حدثنا الحسين بن واقد، عن أوفى بن دلهم ، عن نافع، عن ابن عمر قال: «صعد رسول الله صلى الله عليه وسلم المنبر فنادى بصوت رفيع فقال: يا معشر من أسلم بلسانه ولم يفض الإيمان إلى قلبه» لا تؤذوا المسلمين ولا تعيروهم ولا تتبعوا عوراتهم؛ فإنه من تتبع عورة أخيه المسلم تتبع الله عورته، ومن تتبع الله عورته يفضحه ولو في جوف رحله. قال: ونظر ابن عمر يوما إلى البيت أو إلى الكعبة فقال: ماأعظمك وأعظم حرمتك والمؤمن أعظم حرمة عند الله منك.
*السنن الكبرى للنسائي :(6/ 465،رقم الحدیث:7243،ط: مؤسسة الرسالة)*
أخبرنا عمرو بن منصور، قال: حدثنا آدم بن أبي إياس، قال: حدثنا الليث، قال: حدثنا إبراهيم بن نشيط، عن كعب بن علقمة، قال: سمعت أبا الهيثم يذكر أنه سمع دخينا كاتب عقبة، يقول: كان لنا جيران يشربون الخمر فنهيتهم فلم ينتهوا فقلت لعقبة بن عامر: إنهم يشربون الخمر وقد نهيتهم، فلم ينتهوا فأدعو لهم بالشرط؟ قال: لا ثم عاودته قال: دعهم فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:من رأى عورة من مسلم فسترها، فكأنما استحيا موءودة.
*مصنف ابن أبي شيبة:(5/ 474 ،رقم الحديث:28084،ط:مكتبة الرشد)*
حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية، عن عاصم، عن عكرمة، عن ابن عباس، وعمار، والزبير، أخذوا سارقا فخلوا سبيله، فقلت لابن عباس: بئسما صنعتم حين خليتم سبيله، قال: لا أم لك، أما لو كنت أنت لسرك أن يخلى سبيلك.
*مصنف عبد الرزاق:(7/ 398،رقم الحديث: 13623،ط: المجلس العلمي)*
عن رجل، عن سالم بن مسكين قال: أخبرني عن حبيب بن أبي فضالة، أن صالح بن كريز، حدثه، أنه جاء بجارية زنت إلى الحكم بن أيوب قال: فبينا أنا جالس، إذ جاء أنس بن مالك فجلس فقال: «يا صالح، ما هذه الجارية معك؟» قال: قلت: جارية لي بغت، فأردت أن أدفعها إلى الإمام ليقيم عليها الحد. فقال: «لا تفعل، رد جاريتك، واتق الله واستر عليها». قال: ما أنا بفاعل حتى أدفعها. قال له أنس: «لا تفعل، وأطعني» قال صالح: فلم يزل يراجعني حتى قلت له: أردها على أنه ما كان علي فيها من ذنب، فأنت ضامن؟ قال: فقال أنس: «نعم». قال: فردها.
*المفهم للقرطبي:(6/ 558،ط:دار ابن كثير)*
و(قوله: من ستر مسلما ستره الله يوم القيامة) هذا حض على ستر من ستر نفسه، ولم تدع الحاجة الدينية إلى كشفه، فأما من اشتهر بالمعاصي، ولم يبال بفعلها، ولم ينته عما نهي عنه، فواجب رفعه للإمام، وتنكيله، وإشهاره للأنام ليرتدع بذلك أمثاله، وكذلك من تدعو الحاجة إلى كشف حالهم من الشهود والمجرحين، فيجب أن يكشف منهم ما يقتضي تجريحهم، ويحرم سترهم مخافة تغيير الشرع، وإبطال الحقوق.
*الموسوعة الفقهية الكويتية:(24/ 169،ط:دارالسلاسل)*
«أجمع العلماء على أن من اطلع على عيب أو ذنب أو فجور لمؤمن من ذوي الهيئات أو نحوهم ممن لم يعرف بالشر والأذى ولم يشتهر بالفساد، ولم يكن داعيا إليه، كأن يشرب مسكرا أو يزني أو يفجر متخوفا متخفيا غير متهتك ولا مجاهر يندب له أن يستره، ولا يكشفه للعامة أو الخاصة، ولا للحاكم أو غير الحاكم، للأحاديث الكثيرة التي وردت في الحث على ستر عورة المسلم والحذر من تتبع زلاته، ومن هذه الأحاديث: قوله صلى الله عليه وسلم: من ستر مسلما ستره الله يوم القيامة وفي رواية ستره الله في الدنيا والآخرة " وقوله صلى الله عليه وسلم: أقيلوا ذوي الهيئات عثراتهم. وقوله صلى الله عليه وسلم: من ستر عورة أخيه المسلم ستر الله عورته يوم القيامة، ومن كشف عورة أخيه»المسلم كشف الله عورته حتى يفضحه بها في بيته. ولأن كشف هذه العورات، والعيوب والتحدث بما وقع منه قد يؤدي إلى غيبة محرمة وإشاعة للفاحشة.قال بعض العلماء: اجتهد أن تستر العصاة، فإن ظهور معاصيهم عيب في أهل الإسلام، وأولى الأمور ستر العيوب. قال الفضيل بن عياض: المؤمن يستر وينصح، والفاجر يهتك ويعير.أما من عرف بالأذى والفساد والمجاهرة بالفسق وعدم المبالاة بما يرتكب، ولا يكترث لما يقال عنه فيندب كشف حاله للناس وإشاعة أمره بينهم حتى يتوقوه ويحذروا شره، بل ترفع قصته إلى ولي الأمر إن لم يخف مفسدة أكبر؛ لأن الستر على هذا يطمعه في الإيذاء والفساد وانتهاك الحرمات وجسارة غيره على مثل فعله. فإن اشتد فسقه ولم يرتدع من الناس فيجب أن لا يستر عليه بل يرفع إلى ولي الأمر حتى يؤدبه ويقيم عليه ما يترتب على فساده شرعا من حد أو تعزير ما لم يخش مفسدة أكبر. وهذا كله في ستر معصية وقعت في الماضي وانقضت. أما المعصية التي رآه عليها وهو متلبس بها فتجب المبادرة بإنكارها ومنعه منها على من قدر على ذلك، فلا يحل تأخيره ولا السكوت عنها، فإن عجز لزمه رفعها إلى ولي الأمر إذا لم يترتب على ذلك مفسدة أكبر، لقوله صلى الله عليه وسلم: من رأى منكم منكرا فليغيره بيده فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه وذلك أضعف الإيمان.