ایک شخص نے مجھے کہا کہ رات کے وقت خوشبو لگانا مناسب نہیں، اس سے اثرات وغیرہ پڑتے ہیں، میرا سوال یہ ہے کہ کیا حقیقت میں رات کے وقت خوشبو لگانا منع ہے یا یہ بات محض وہم اور بے بنیاد ہے؟
واضح رہے کہ رات کے وقت خوشبو لگانے میں شرعا ًکوئی حرج نہیں ، البتہ یہ کہنا کہ’’رات کو خوشبو لگانے سے اثرات پڑتے ہیں‘‘ محض بے بنیاد اور وہم پر مبنی بات ہے، جس کی قرآن و حدیث میں کوئی اصل نہیں، بلکہ نبی کریم ﷺ جب رات کو تہجد کے لیے بیدار ہوتے تو وضو فرمانے کے بعد خوشبو کا استعمال فرمایا کرتے تھے۔
*مسند البزار:(13/ 326،رقم الحدیث:6934،ط:مكتبة العلوم والحكم)*
حدثنا العباس بن جعفر البغدادي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا أبو بشر يقال له: ابن المزلق، عن ثابت، عن أنس، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام من الليل، استنجى وتوضأ واستاك، ثم بعث يطلب الطيب في ربا.