ایک دکاندار اپنی دکان کے تمام مال کی مکمل زكوة ادا کرتا ہے اور اگلے سال تک اس پر کوئی زكوة باقی نہیں رہتی، لیکن جب اگلا سال شروع ہوتا ہے تو غریبوں کو نقد رقم اور سامان دینا شروع کر دیتا ہے اور وہ ان سب چیزوں کا حساب اپنی کاپی یا رجسٹر میں لکھتا رہتا ہے، جب سال مکمل ہو جاتا ہے اور نیا وقتِ زكوة آ جاتا ہے تو وہ دکاندار ان دی ہوئی رقوم اور سامان کو زكوة میں شمار کر لیتا ہے، اگر ان دی گئی رقوم سے زكوة پوری نہ ہو تو بقیہ رقم بھی شامل کر کے اپنی زكوة ادا کر دیتا ہے۔
کیا اس طریقے میں کوئی شرعی قباحت یا مسئلہ تو نہیں؟ شکریہ۔
سال پورا ہونے سے پہلے زکوۃ دی جا سکتی ہے، البتہ زکوٰۃ ادا کرتے وقت یا رقم الگ کرتے وقت زکوٰۃ کی نیت ضروری ہے۔
*الشامية:(293/2،ط:دارالفكر)*
ولو عجل ذو نصاب) زكاته (لسنين أو لنصب صح) لوجود السبب،
قوله: ولو عجل ذو نصاب) قيد بكونه ذا نصاب؛ لأنه لو ملك أقل منه فعجل خمسة عن مائتين ثم تم الحول على مائتين لا يجوز، وفيه شرطان آخران: أن لا ينقطع النصاب في أثناء الحول، فلو عجل خمسة من مائتين ثم هلك ما في يده إلا درهما ثم استفاد فتم الحول على مائتين جاز ما عجل.
*الهندية:(171/1،ط:دارالفكر)*
ومن أعطى مسكينا دراهم وسماها هبة أو قرضا ونوى الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح هكذا في البحر الرائق ناقلا عن المبتغى والقنية.