زکوۃ و نصاب زکوۃ

مقروض پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
960
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

مقروض پر زکوۃ کا حکم

مفتی صاحب !
ایک آدمی نے ایک مکان خریدا تھا اور بیچنے کی نیت نہیں تھی اپنے استعمال کے لیے لیا تھا اس مکان کو لیتے وقت وہ چھ لاکھ روپے کا مقروض ہو گیا تو آیا زکوۃ کے حساب سے چھ لاکھ جو قرضہ ہے اس کو مائنس کرے گا یا نہیں کرے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ زکوۃ ادا کرتے وقت سب سے پہلے قرض کو اپنے کل مال میں سے منہا (کٹوتی) کیا جائے گا اس کے بعد جو رقم بچے گی اسی پر زکوٰۃ فرض ہوگی۔

حوالہ جات

*الھندیة:(172/1،ط: دار الفكر )*
(ومنها فراغ المال) عن حاجته الأصلية فليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة.

*الدرالمختار:(126/1،ط: دار الفكر )*
(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) ... (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) ... (و) فارغ (عن حاجته الأصلية) لأن المشغول بها كالمعدوم ... (نام ولو تقديرا) بالقدرة على الاستنماء ولو بنائبه.

*ایضاً:(267/ 2)*
(وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه .... (‌أو ‌نية ‌التجارة) ‌في ‌العروض، إما صريحا ولا بد من مقارنتها لعقد التجارة كما سيجيء، أو دلالة بأن يشتري عينا بعرض التجارة».

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
60
فتوی نمبر 960کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --