مفتی صاحب !
ایک آدمی نے ایک مکان خریدا تھا اور بیچنے کی نیت نہیں تھی اپنے استعمال کے لیے لیا تھا اس مکان کو لیتے وقت وہ چھ لاکھ روپے کا مقروض ہو گیا تو آیا زکوۃ کے حساب سے چھ لاکھ جو قرضہ ہے اس کو مائنس کرے گا یا نہیں کرے گا؟
واضح رہے کہ زکوۃ ادا کرتے وقت سب سے پہلے قرض کو اپنے کل مال میں سے منہا (کٹوتی) کیا جائے گا اس کے بعد جو رقم بچے گی اسی پر زکوٰۃ فرض ہوگی۔
*الھندیة:(172/1،ط: دار الفكر )*
(ومنها فراغ المال) عن حاجته الأصلية فليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة.
*الدرالمختار:(126/1،ط: دار الفكر )*
(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) ... (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) ... (و) فارغ (عن حاجته الأصلية) لأن المشغول بها كالمعدوم ... (نام ولو تقديرا) بالقدرة على الاستنماء ولو بنائبه.
*ایضاً:(267/ 2)*
(وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه .... (أو نية التجارة) في العروض، إما صريحا ولا بد من مقارنتها لعقد التجارة كما سيجيء، أو دلالة بأن يشتري عينا بعرض التجارة».