کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ میں ایک سرکاری ملازم ہوں میں نے حکومت سے قرض پیسے لیے ہیں اور وہ میں نے کاروبار میں لگائے ہیں ، حکومت ہر ماہ میری تنخواہ میں سے اس کی کٹوتی کرتی ہے ، کیااس پر زکوۃ فرض ہے ؟
واضح رہے کہ زکوۃ واجب ہونے کے لیے نصاب کا مالک ہونا شرط ہے ، لہذا اگر آپ کے پاس قرض کے علاوہ اتنا مال ہے جو زکوۃ کے نصاب کو پہنچتا ہے تو آپ پر زکوۃ واجب ہے ، اور اگر قرض نکالنے کے بعد آپ کا بقیہ مال نصاب تک نہیں پہنچتا تو آپ پر زکوۃ واجب نہیں ۔
بدائع الصنائع: (2/ 6، ط: دار الكتب العلمية )
ومنها أن لا يكون عليه دين مطالب به من جهة العباد عندنا فإن كان فإنه يمنع وجوب الزكاة بقدره حالا كان أو مؤجلا.
مجمع الأنهر : (1/ 194، ط: دار إحياء التراث العربي )
أو الدين في دين العبد لأن المال مع الدين مشغول بالحاجة الأصلية وهي رفع الحبس عن المديون.
فتاوی عثمانیہ :(۳، ۴۴۵، ط: العصر اکیڈمی )
سامان تجارت پر اس وقت زکوۃ واجب ہوتی ہے جب اس کی قیمت چاندی کے نصاب کے برابر ہو ، اس کے ساتھ ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ آدمی مقروض نہ ہو ، جہاں کسی پر قرضہ ہو وجوب زکو ۃ کے لیے مانع رہے گا ۔