زکوۃ و نصاب زکوۃ

قرض لے کرکاروبار کرنے کی صورت میں زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
1356
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

قرض لے کرکاروبار کرنے کی صورت میں زکوۃ کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ میں ایک سرکاری ملازم ہوں میں نے حکومت سے قرض پیسے لیے ہیں اور وہ میں نے کاروبار میں لگائے ہیں ، حکومت ہر ماہ میری تنخواہ میں سے اس کی کٹوتی کرتی ہے ، کیااس پر زکوۃ فرض ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ زکوۃ واجب ہونے کے لیے نصاب کا مالک ہونا شرط ہے ، لہذا اگر آپ کے پاس قرض کے علاوہ اتنا مال ہے جو زکوۃ کے نصاب کو پہنچتا ہے تو آپ پر زکوۃ واجب ہے ، اور اگر قرض نکالنے کے بعد آپ کا بقیہ مال نصاب تک نہیں پہنچتا تو آپ پر زکوۃ واجب نہیں ۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع: (2/ 6، ط: دار الكتب العلمية )
ومنها أن لا يكون عليه دين مطالب به ‌من ‌جهة ‌العباد عندنا فإن كان فإنه يمنع وجوب الزكاة بقدره حالا كان أو مؤجلا.

مجمع الأنهر : (1/ 194، ط: دار إحياء التراث العربي )
أو الدين ‌في ‌دين ‌العبد لأن المال مع الدين مشغول بالحاجة الأصلية وهي رفع الحبس عن المديون.

فتاوی عثمانیہ :(۳، ۴۴۵، ط: العصر اکیڈمی )
سامان تجارت پر اس وقت زکوۃ واجب ہوتی ہے جب اس کی قیمت چاندی کے نصاب کے برابر ہو ، اس کے ساتھ ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ آدمی مقروض نہ ہو ، جہاں کسی پر قرضہ ہو وجوب زکو ۃ کے لیے مانع رہے گا ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
53
فتوی نمبر 1356کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --