میں نے ایک جگہ خریدی ہے جس پر میں مارکیٹ تعمیر کر رہا ہوں۔تقریباً ستر لاکھ روپے اس پر خرچ ہونے ہیں،جن میں سے تیس لاکھ روپے لگ چکے ہیں اور چالیس لاکھ روپے ابھی میرے پاس موجود ہیں۔مارکیٹ کی تعمیر کا کام جاری ہے۔اب میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ موجودہ صورتِ حال میں زکاۃ کا کیا حکم ہوگا؟کیا میرے پاس موجود چالیس لاکھ روپے پر زکاۃ واجب ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص مارکیٹ یا عمارت تعمیر کرنے کے لیے رقم جمع کر کے رکھے تو وہ رقم جب تک خرچ نہ ہو اور اس پر سال گزر جائے، اس پر زکاۃ واجب ہوگی۔
پوچھی گئی صورت میں چونکہ آپ تیس لاکھ روپے تعمیر پر خرچ کر چکے ہیں، اس لیے اس تیس لاکھ روپے پر زکاۃ لازم نہیں، البتہ جو چالیس لاکھ روپے اب بھی آپ کے پاس موجود ہیں، اگر زکاۃ کا سال مکمل ہونے پر وہ اسی طرح موجود رہے تو واجب الادا اخراجات نکالنے کے بعد، اس چالیس لاکھ روپے کی زکاۃڈھائی فیصد ادا کرنا ضروری ہے۔
*الشامیة:(2/ 262،ط:دارالفکر)*
فإذا كان معه دراهم أمسكها بنية صرفها إلى حاجته الأصلية لا تجب الزكاة فيها إذا حال الحول، وهي عنده، لكن اعترضه في البحر بقوله: ويخالفه ما في المعراج في فصل زكاة العروض أن الزكاة تجب في النقد كيفما أمسكه للنماء أو للنفقة، وكذا في البدائع في بحث النماء التقديري. اهـ.
قلت: وأقره في النهر والشرنبلالية وشرح المقدسي، وسيصرح به الشارح أيضا، ونحوه قوله في السراج سواء أمسكه للتجارة أو غيرها، وكذا قوله في التتارخانية نوى التجارة أولا، لكن حيث كان ما قاله ابن ملك موافقا لظاهر عبارات المتون كما علمت، وقال ح إنه الحق فالأولى التوفيق بحمل ما في البدائع وغيرها، على ما إذا أمسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول، وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي، وإن كان قصده الإنفاق منه أيضا في المستقبل لعدم استحقاق صرفه إلى حوائجه الأصلية وقت حولان الحول، بخلاف ما إذا حال الحول وهو مستحق الصرف إليها.