زکوۃ و نصاب زکوۃ

قرض پر دی ہوئی رقم پر زکوٰۃ کا حکم

فتوی نمبر :
1634
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

قرض پر دی ہوئی رقم پر زکوٰۃ کا حکم

میں نے ایک شخص کو پانچ لاکھ روپے دیے ہیں چار سال ہوگئے، لیکن پتہ نہیں کب دےگا، کیا ان پانچ لاکھ پر زکوة واجب ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ پانچ لاکھ روپے جو آپ نے قرض دیے ہیں اور سال ان پر گزر چکا ہے تو نصاب کامل ہونے کی وجہ سے ان پیسوں پر زکوۃ واجب ہے، البتہ جب تک قرض وصول نہ ہوجائے اس کی ادائیگی واجب نہیں، لیکن رقم وصول ہونے کے بعد (اگر کئی سال کے بعد وصول ہو تو) گزشتہ تمام سالوں کی زکاۃ ڈھائی فی صد کے حساب سے ادا کرنی ہوگی، اگر سہولت ہو اور وصول ہونے سے پہلے ادا کرنا چاہیں تو بھی درست ہے۔

حوالہ جات

*الدر المختار :(2/ 305،ط:دارالفکر)*
(و) اعلم ‌أن ‌الديون ‌عند ‌الإمام ‌ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم..

*الشامية:(2/ 305،ط:دارالفکر)*
(قوله: عند قبض أربعين درهما) قال في المحيط؛ لأن الزكاة لا تجب في الكسور من النصاب الثاني عنده ما لم يبلغ أربعين للحرج فكذلك لا يجب الأداء ما لم يبلغ أربعين للحرج.
وذكر في المنتقى: رجل له ثلثمائة درهم دين حال عليها ثلاثة أحوال فقبض مائتين، فعند أبي حنيفة يزكي للسنة الأولى خمسة وللثانية والثالثة أربعة أربعة من مائة وستين، ولا شيء عليه في الفضل؛ لأنه دون الأربعين.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
43
فتوی نمبر 1634کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --