عورت کا عمرے کے دوران حجاب پہننا

فتوی نمبر :
1659
معاشرت زندگی / حجاب و شرعی پردہ /

عورت کا عمرے کے دوران حجاب پہننا

کیا عورت عمرہ کے دوران خانۂ کعبہ کا طواف اس حالت میں کرسکتی ہے کہ اس نے چہرہ فیس کور کیا (نقاب) سے ڈھانپا) ہوا ہو یا حجاب پہنا ہو؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

احرام کی حالت میں عورت کے لیے چہرہ براہِ راست ڈھانپنا منع ہے، تاہم شریعت نے عورت کو ہر حال میں پردہ کرنے کا حکم دیا ہے، اس لیے جب عورت کے سامنے نامحرم مرد آئے تو اس پر ضروری ہے کہ وہ اپنی چادر یا اوڑھنی کو اس طرح آگے کر لے کہ چہرے پر کپڑا نہ لگے، مگر پردہ بھی قائم رہے، صحابیات رضی اللہ عنہن کا بھی یہی طریقہ تھا کہ وہ نامحرم کے سامنے چادر کو سامنے گرا دیتی تھیں، تاکہ ستر بھی رہے اور احرام کی پابندی بھی نہ ٹوٹے۔
آج کل خواتین اپنی سہولت کے مطابق ایسی کوئی بھی ترکیب اختیار کرسکتی ہیں، جس سے پردہ بھی ہوجائے اور کپڑا چہرے سے مس نہ ہو۔ مثلاً: ایسی ہیٹ (ٹوپی) پہننا جس کے آگے نقاب کی طرح کپڑا لٹکا ہو، یا گھونگھٹ کو اس طرح ڈھیلا چھوڑ دینا کہ پردہ حاصل ہو جائے، مگر چہرے سے کپڑا نہ چپکے۔

حوالہ جات

*الشامية:(557/2،ط: دارالفكر)*
(وإن طيب أو حلق) أو لبس (بعذر) خير إن شاء (قوله بعذر) قيد للثلاثة وليست الثلاثة قيدا، فإن جميع محظورات الإحرام إذا كان بعذر ففيه الخيارات الثلاثة كما في المحيط قهستاني، وأما ترك شيء من الواجبات بعذر فإنه لا شيء فيه على ما مر أول الباب عن اللباب وفيه: ومن الأعذار الحمى والبرد والجرح والقرح والصدع والشقيقة والقمل، ولا يشترط دوام العلة ولا أداؤها إلى التلف بل وجودها مع تعب ومشقة يبيح ذلك، وأما الخطأ والنسيان والإغماء والإكراه والنوم وعدم القدرة على الكفارة فليست بأعذار في حق التخيير ولو ارتكب المحظور بغير عذر فواجبه الدم عينا، أو الصدقة فلا يجوز عن الدم طعام ولا صيام، ولا عن الصدقة صيام؛ فإن تعذر عليه ذلك بقي في ذمته. اهـ.
وما في الظهيرية من أنه إن عجز عن الدم صام ثلاثة أيام ضعيف.

*الفقه الاسلامي وادلته:(2295/3،ط:دار الفكر)*
وأجاز الشافعية والحنفية (٥) ذلك بوجود حاجز عن الوجه فقالوا: للمرأة أن تسدل على وجهها ثوبا متجافيا عنه بخشبة ونحوها، سواء فعلته لحاجة من حر أو برد أو خوف فتنة ونحوها، أو لغير حاجة، فإن وقعت الخشبة فأصاب الثوب وجهها بغير اختيارها ورفعته في الحال، فلا فدية. وإن كان عمدا وقعت بغير اختيارها فاستدامت، لزمتها الفدية.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
58
فتوی نمبر 1659کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --