کچھ لوگ بیٹیوں کے گھر سے کھانا کھانے،پانی پینے کو جائز نہیں سمجھتے اور کہتے ہیں کہ دین میں اس کی اجازت نہیں، کیا شریعت میں واقعی اس کی اجازت نہیں؟
واضح رہے کہ جس چیز کو اللہ تعالی اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ناجائز و حرام قرار دیا ہے، وہی ناجائز و حرام ہے، محض اپنی اٹکل سے کسی بھی جائز چیز کو ناجائز کہنا درست نہیں، لہذا والدین کا اپنی بیٹیوں کے گھر کھانا ،پینا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں اور اس کو معیوب سمجھنا درست نہیں۔
*القرآن:(النحل16/116)*
وَلَا تَقُولُواْ لِمَا تَصِفُ أَلۡسِنَتُكُمُ ٱلۡكَذِبَ هَٰذَا حَلَٰلٞ وَهَٰذَا حَرَامٞ لِّتَفۡتَرُواْ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَفۡتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ لَا يُفۡلِحُونَ.
*تفسير البيضاوي:(3/ 243،ط: دار إحياء التراث العربي)*
ولا تقولوا هذا حلال وهذا حرام لوصف ألسنتكم الكذب أي: لا تحرموا ولا تحللوا بمجرد قول تنطق به ألسنتكم من غير دليل، ووصف ألسنتهم الكذب مبالغة في وصف كلامهم بالكذب كأن حقيقة الكذب كانت مجهولة وألسنتهم تصفها وتعرفها بكلامهم هذا، ولذلك عد من فصيح الكلام كقولهم: وجهها يصف الجمال وعينها تصف السحر.