کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے ایک فلیٹ خرید ا ہے اس کی تعمیر کا کام مکمل ہوگیا ہے تاہم بلڈرز نے ابھی تک اس کا قبضہ مجھے نہیں دیا ہے ، تو کیااب میں اس فلیٹ کو نفع حاصل کرنے کے لیے آگے بیچ سکتا ہوں یا نہیں ؟
فلیٹ بک کروانا آرڈر پر مال بنوانے کی طرح ہے ،لہذاصرف عقد کرنے سے قبضہ حاصل نہیں ہوتا اور جب تک قبضہ خریدنے والے کے پاس نہ ہو اس کو آگے بیچنا شرعا درست نہیں ہے ۔
درر الحكام : (،ج:1،ص:309،ط:دار الجیل)
(المادة 313) إذا تبايعا على أن يؤدي المشتري الثمن في وقت كذا وإن لم يؤده فلا بيع بينهما صح البيع وهذا يقال له خيار النقد"۔
(الکتاب الاول البیوع،لباب السادسفي بيان الخيارات،الفصل الثالث في حق خيار النقد،(المادة 313) تبايعا على أن يؤدي المشتري الثمن في وقت كذا
الدرالمختار:( 4/571، ط: دارالفكر)
"(فإن اشترى) شخص شيئاً (على أنه) أي المشتري (إن لم ينقد ثمنه إلى ثلاثة أيام فلا بيع صح) استحساناً، خلافاً لزفر، فلو لم ينقد في الثلاث فسد فنفذ عتقه بعدها لو في يده فليحفظ. (و) إن اشترى كذلك (إلى أربعة) أيام (لا) يصح، خلافاً لمحمد. (فإن نقد في الثلاثة جاز) اتفاقاً؛ لأن خيار النقد ملحق بخيار الشرط، فلو ترك التفريع لكان أولى."
بدائع الصنائع :(5/138، ط:سعيد كراتشي )
"وأما الذي يرجع إلى المعقود عليه فأنواع (منها) : أن يكون موجودا فلا ينعقد بيع المعدوم الخ."