مىں نے پانچ سال پہلے اپنی رقم سے ایک مکان خریدا اور والدہ کے صرف نام کر دیا، لیکن نہ انہیں بطورِ تحفہ دیا، نہ ہی یہ کہا کہ یہ مکان ان کی ملکیت ہے، صرف اتنا کہا تھا کہ "میں مکان آپ کے نام پر کرنا چاہتا ہوں
تو کیا یہ مکان شرعاً میری ملکیت شمار ہوگا یا والدہ کی؟
واضح رہے کہ مکان صرف کسی کے نام کرنے سے شرعاً ملکیت منتقل نہیں ہوتی، جب تک باقاعدہ قبضے اور تصرف میں نہ دیا جائے۔
پوچھی گئی صورت میں چونکہ آپ نے مکان والدہ کے نام کیا ہے، مکان کا قبضہ آپ ہی کے پاس ہے ، لہذا یہ مکان والدہ کی ملکیت میں داخل نہیں ہوا، شرعاً یہ مکان بدستور آپ کی ملکیت میں ہے۔
*الشامية:(5/ 689،ط:دارالفكر)*
بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة...،(وقوله: بخلاف جعلته باسمك) قال في البحر: قيد بقوله: لك؛ لأنه لو قال: جعلته باسمك، لا يكون هبة؛ ولهذا قال في الخلاصة: لو غرس لابنه كرما إن قال: جعلته لابني، يكون هبة، وإن قال: باسم ابني، لا يكون هبة.
*الهداية: ( 222/3،ط:دار احیاء التراث )*
الهبة عقد مشروع لقوله تهادوا تحابوا وعلى ذلك انعقد الإجماع وتصح بالإيجاب والقبول والقبض أما الإيجاب والقبول فلأنه عقد والعقد ينعقد بالإيجاب والقبول والقبض لا بد منه لثبوت الملك.
*الهندية:(377/4،ط: دار الفكر )*
ولایتمّ حکم الھبة الّا مقبوضة و یستوی فیه الأجنبی و الولد اذا کان بالغا ھٰکذا فی محیط البرھانی.