مفتی صاحب !
ایک آدمی نے دوسرے کو عمرے کے لئے روپے دیے اس وقت صدقہ کی نیت کی تھی اب اس کو زکوۃ کی نیت میں تبدیل کرسکتا ہے یا نہیں ؟جواب مرحمت فرما دے ؟
واضح رہے کہ زکوۃ کی ادائیگی کے لیے رقم مستحق کو دیتے وقت یا رقم علیحدہ رکھتے وقت زکوۃ کی نیت کرنا ضروری ہے لہذا اگر رقم مستحق کو نیت کے بغیر دے دی اور مال ابھی اس کے پاس موجود ہے تو بعد میں زکوٰۃ کی نیت کر لینے سے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، لیکن اگر وہ مال خرچ کر دیا گیا ہو تو بعد کی نیت معتبر نہیں ہوگی اور زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر پیسے اس شخص کے پاس موجود ہیں تو زکوۃ کی نیت صحیح ہے اگر وہ ان کے ذریعے عمرہ کر چکا ہے عمرے کے بعد یہ زکوۃ کی نیت کرتا ہے تو پھر اس کا اعتبار نہیں۔
*الهندية:(171/1،ط: دارالفكر)*
وإذا دفع إلى الفقير بلا نية ثم نواه عن الزكاة فإن كان المال قائما في يد الفقير أجزأه، وإلا فلا كذا في معراج الدراية والزاهدي والبحر الرائق والعيني وشرح الهداية.
*مجمع الانهر:(195/1،ط:دار إحياء التراث العربي)*
وشرط) صحة (أدائها) أي كونها مؤداة (نية) لأنها عبادة مقصودة فلا تصح بدونها (مقارنة للأداء) المراد أن تكون مقارنة للأداء للفقير أو الوكيل ولو مقارنة حكمية كما إذا دفع بلا نية ثم حضرته النية والمال قائم في يد الفقير فإنه يجزيه بخلاف ما إذا نوى بعد هلاكه.