گھر کی نچلی منزل میں قرآن رکھے ہوں تو اوپر والی منزل پر پیشاب کرنا

فتوی نمبر :
1010
حظر و اباحت / جائز و ناجائز /

گھر کی نچلی منزل میں قرآن رکھے ہوں تو اوپر والی منزل پر پیشاب کرنا

مفتی صاحب!
گھر کی نچلی منزل میں اگر قران رکھے ہوں تو اوپر کی منزل پر پیشاب کرنا یا اوپر کی منزل میں کسی حاجت کے لیے چلنا پھرنا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر گھر کی نچلی منزل میں قرآنِ مجید موجود ہو تو اوپر والی منزل پرقضائے حاجت( پیشاب، پائخانہ) کرنا جائز ہے، اس میں کوئی قباحت اور حرج نہیں اور نہ ہی یہ بے ادبی کے زمرے میں آتا ہے۔

حوالہ جات

*الشامية:(657/1،ط: دارالفكر)*
كما لو بال على سطح بيت فيه مصحف وذلك لا يكره كما في جامع البرهاني معراج.

*المحيط البرهاني:(318/5،ط:دار الكتب العلمية)*
لو بال على سطح بيت فيه مصحف، وذلك لا يكره.

*فتاویٰ حقانیہ:(2/ 166)،ط: جامع دارالعلوم حقانیہ)*
’’فقہاء کرام کی واضح عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ جس مکان میں قرآن کریم کا نسخہ موجود ہو، اس کی چھت پر اگر پیشاب کر دیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں، جب قرآن مجید کی موجودگی میں مکان کی چھت پر پیشاب کرنا قبیح امر نہیں تو مکان کی چھت پر صرف چڑھنا بدرجہ اولیٰ جائز ہو گا۔‘‘

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
72
فتوی نمبر 1010کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --