میں ایک کوچ ڈرائیور ہوں، جس کا مخصوص روٹ نمبر ہوتا ہے، ہم مخصوص روٹ پر چلتے ہیں اور روزانہ کے حساب سے کچھ روپیہ مالکان کو دیتے ہیں، روٹ مالکان اس جمع شدہ رقم سے منشی کو تنخواہ بھی دیتے ہیں، ٹریفک پولیس والے کو بھی دیتے ہیں، جس کی بنا پر پولیس چالان وغیرہ نہیں کرتی۔ سوال یہ ہے کہ یہ جو رقم مالکان ٹریفک والے کو دیتے ہیں، یہ جائز ہے یا نہیں؟ اور ہماری کمائی حلال ہے یا حرام؟ جبکہ ہم مزدور لوگ ہیں، تنخواہ یا ٹیکہ پر کام کرتے ہیں۔
ڈرائیور کی اپنی اجرت یا تنخواہ کا حکم الگ ہے، اگر ڈرائیور کا اصل کام جائز ہے، مثلاً مسافروں کو مقررہ روٹ پر لے جانا، اور وہ اپنی محنت کی اجرت لیتا ہے، تو محض اس وجہ سے کہ مالکان اپنی آمدنی میں سے پولیس کو ناجائز رقم دیتے ہیں، ڈرائیور کی محنت کی اجرت حرام نہیں ہوجاتی، البتہ ڈرائیور خود رشوت کے لین دین میں شریک نہ ہو اور نہ اس کام میں براہِ راست تعاون کرے۔ اگر ڈرائیور کو خود معلوم ہو کہ مالک نے رقم اس مقصد سے مقرر کی ہے کہ پولیس کو رشوت دے کر قانون کی خلاف ورزی جاری رکھی جائے تو ایسی غیر قانونی سرگرمی میں حتی الامکان شریک ہونے سے بچنا لازم ہے، لیکن اگر وہ صرف مزدور ہے، گاڑی چلاتا ہے، رشوت کا فیصلہ، ادائیگی یا انتظام اس کے اختیار میں نہیں تو اس کی اپنی جائز محنت کی اجرت حلال رہے گی، اس کو رشوت کا گناہ نہیں ہوگا۔
سنن الترمذی: (16/3،رقم الحدیث:1338ط: دار الغرب الاسلامی) حدثنا أبو موسى محمد بن المثنى، قال: حدثنا أبو عامر العقدي، قال: حدثنا ابن أبي ذئب ، عن خاله الحارث بن عبد الرحمن ، عن أبي سلمة ، عن عبد الله بن عمرو قال: «لعن رسول الله ﷺ الراشي» والمرتشي. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:(2437،ط:دار الفكر) (وعن عبد الله بن عمرو) بالواو (قال: «لعن رسول الله ﷺالراشي والمرتشي»): أي: معطي الرشوة وآخذها، وهى الوصلة إلى الحاجة بالمصانعة، وأصله من الرشاء الذي يتوصل به إلى الماء، قيل: الرشوة ما يعطى لإبطال حق، أو لإحقاق باطل، أما إذا أعطى ليتوصل به إلى حق، أو ليدفع به عن نفسه ظلما فلا بأس به، وكذا الآخذ إذا أخذ ليسعى في إصابة صاحب الحق فلا بأس به، لكن هذا ينبغي أن يكون في غير القضاة والولاة ; لأن السعي في إصابة الحق إلى مستحقه، ودفع الظالم عن المظلوم واجب عليهم، فلا يجوز لهم الأخذ عليه.