ایک آدمی کا انتقال ہوا اس کے ورثاء میں تین بیٹیاں، چار بیٹے،ماں، دادا اور ایک چچا ہیں میراث کا کیا حکم ہے،؟ دس لاکھ قرضہ بھی ہے
پوچھی گئی صورت میں میت کی تجہیز و تکفین قرض کی ادائیگی اور اگر وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال میں وصیت نافذ کرنے کے بعد بقیہ کل مال چھیاسٹھ (66) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا،جس میں سے ماں اور دادا میں سے ہر ایک کو گیارہ(11) گیارہ (11) حصے ،ہر ایک بیٹے کو آٹھ ( 8) آٹھ ( 8) حصے،جبکہ ہر ایک بیٹی کو چار (4) چار (4) حصّے دیے جائیں گے، چچا کو کچھ نہیں دیا جائے گا ۔
القرأن الكريم : [النساء:4:11] ﴿يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ﴾ القرآن الکریم:( النساء:11:4) وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا. الھندیة:(449/6،ط:دارالفکر) وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين.