کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں موبائل کا کاروبار کرناچاہتا ہوں یعنی میں ایک موبائل دو لاکھ نقد میں خریدتا ہوں اور اسے کسی دوسرے بندے کو ماہانہ پچاس ہزار قسط پردو لاکھ تیس ہزار میں فروخت کرتا ہوں ۔ پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح زیادہ قیمت پر فروخت کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں ؟یہ سود میں آتا ہے یا نہیں ؟
واضح رہے کہ نقد کی طرح قسطوں پر بھی خرید وفروخت جائز ہے ،اگر چہ قسطوں پر بیچنے کی صورت میں قیمت زیادہ رکھی جائے ، البتہ قیمت کی تعیین میں باہمی رضامندی ، اخوت ، ہمدردی اور مارکیٹ کا خیال رکھا جائے ۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق: (6/ 125، ط: دارالكتاب الاسلامي ) ويزاد في الثمن لأجله إذا ذكر الأجل بمقابلة زيادة الثمن قصدا فاعتبر مالا في المرابحة احترازا عن شبهة الخيانة، ولم يعتبر مالا في حق الرجوع عملا بالحقيقة. مجلة الأحكام العدلية: (ص50، ط: دارالجيل ) (المادة 245) البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح.