کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ جو گاہک گھروں سے پیزا وغیرہ منگواتے ہیں وہ کال سینٹر پر آڈر دیتے ہیں کال سینٹر والوں کا ایک کمپنی کے ساتھ معاہدہ ہوتا ہے اور اس کمپنی میں اس کا سینٹر کے لیے اپنے تقریبا چھ سات ملازم مقرر کیے ہوتے ہیں وہ فون کے ذریعے ان کی شکایات بھی سنتے ہیں اور ارڈر بھی لیتے ہیں پھر کال سینٹر والے آرڈر لیتے ہیں اور اس کمپنی کی ملازمین کو دیتے ہیں وہ کمپنی کے ملازمین اس ارڈر کو لے کر اس گھر پر پہنچاتے ہیں جہاں سے آرڈر آئی ہوتی ہے اور اس طرح کرنے سے کمپنی پیزا وغیرہ کاآرڈر لیتے ہیں وہ اس کا کمپنی کو کچھ معاوضہ بھی دیتی ہے ہے پوچھنا یہ ہے کہ کمپنی کا اس طرح معاوضہ دینا شرعا کیسا ہے؟
واضح رہے کہ کمپنی کا اس معاملے پر معاوضہ لینا جائز ہے ۔
القرأن الكريم : [النساء:/4 29]
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٖ مِّنكُمۡۚ .
الموسوعة الفقهية : (1/ 260، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية )
تتعين المنفعة ببيان المحل. وقد تتعين بنفسها كما إذا استأجر رجلا لخياطة ثوبه وبين له جنس الخياطة. وقد تعلم بالتعيين والإشارة، كمن استأجر رجلا لينقل له هذا الطعام إلى موضع معلوم.
الهداية : (3/ 230، ط: دار احياء التراث العربي )
كمن استأجر رجلا، لينقل له هذا الطعام إلى موضع معلوم"؛ لأنه إذا آراه ما ينقله والموضع الذي يحمل إليه كانت المنفعة معلومة فيصح العقد.