السلام وعلیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! کیا حال ہے خیریت سے ہیں ؟ اگر کوئی نابالغ بچوں کو بطورِ تعلیم نماز کی مشق کرواۓ اور ان سے نماز پڑھواۓ تو حالت مجبوری میں ان کے آگے سے بالغ آدمی گزر سکتا ہے ؟ کوئی گناہ تو نہیں ہوگا یا ان نابالغ بچوں کے سامنے سے گزرنے میں بھی وہی وعیدیں ہیں، جو بالغ آدمی کی نماز کے سامنے سے گزرنے میں ہیں ؟ براہ کرم جواب عنایت فرمائیں۔
جس طرح بالغ نمازی کے آگے سے گزرنا جائز نہیں، اسی طرح جس بچے کی نماز شرعی آداب و شرائط کے مطابق ہو، اس کے سامنے سے گزرنا بھی جائز نہیں، کیونکہ شریعت میں اس کی نماز معتبر ہے، اگرچہ اس کی نماز نفل ہے، البتہ اگر بچہ نماز کے احکام و شرائط کا خیال نہ رکھتا ہو اور صرف ظاہری حرکات کر رہا ہو تو اس کے سامنے سے گزرنے میں حرج نہیں، لہذا پوچھی گئی صورت میں استاد کو چاہیے کہ وہ نابالغ بچوں کو نماز کی تعلیم دیتے وقت آگے سے نہ گزرے، بلکہ کوئی اور طریقہ اختیار کیا جائے، تاہم مجبوری کی صورت میں نمازی کے سامنے سے گزرنے کی گنجائش ہے، لیکن حتی الامکان اس سے بچنے کی کوشش کی جائے اور اگر گزرنا ضروری ہو تو کسی چیز یا شخص کو سترہ بنا کر گزرنا بہتر ہے۔
*صحيح البخاري:(108/1،رقم الحديث:510،ط:دار طوق النجاة)* حدثنا عبد الله بن يوسف قال: أخبرنا مالك، عن أبي النضر مولى عمر بن عبيد الله، عن بسر بن سعيد: «أن زيد بن خالد أرسله إلى أبي جهيم، يسأله: ماذا سمع من رسول الله ﷺ في المار بين يدي المصلي؟ فقال أبو جهيم: قال رسول الله ﷺ: لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه، لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه. قال أبو النضر: لا أدري، أقال أربعين يوما، أو شهرا، أو سنة». *عمدة القاري:(180/2،ط:دار الفكر)* التاسع: فيه أن صلاة الصبي صحيحة. *بدائع الصنائع:(259/1،ط:دارالكتب العلمية)* فمن لم يكن من أهل الوجوب كالصبي والمجنون فصلاة الصبي تكون تطوعا. *فتاوی محمودیہ: (6: 522، 523)،ط: ادارة الفاروق)* "سوال: نا بالغ بچے اگر نماز پڑھ رہے ہوں تو ان کے سامنے سے مرور جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر وہ نماز کے ارکان زشرائط سے بخوبی واقف ہو ں اورطفل لا یعقل نہ ہوں بلکہ طفل یعقل ہوں اورمراہق ہوں تو کیا حکم ہے؟ الجواب حامدا ومصلیًّا: صفوفِ متقدمہ میں جاکر قیام کرنے کے لئے اس مرور کی ضرورت پیش آئے تو اجازت ہے، بلا ضرورت ان کے سامنے کوبھی مرور نہ کیا جاوے؛ ان کی نماز بھی شرعًا نماز ہے،اگر چہ وہ سات سال کے ہوں"۔